خزائن الحدیث |
|
آپ کے اس عمل کے لیے کوئی معمول، کوئی سبب، کوئی میدان، نزولِ رحمت کے لیے کوئی بہانا تو ہونا چاہیے، لہٰذا ہم نالائق اپنے گناہوں پر ندامت و استغفار اور توبہ کی گٹھڑی لے کر حاضر ہوگئے ہیں اور فَاعْفُ عَنِّیْ کی درخواست کر رہے ہیں کہ معاف کرنے کا محبوب عمل ہم پر جاری کر دیجیے اور لوگ جب دور دراز سے بادشاہوں کے پاس آتے ہیں تو ان کے مزاج کے موافق قیمتی ہدایا و تحائف لے کر آتے ہیں، لیکن ہم تو ایسے بے مایہ و تہی دامن ہیں کہ ندامت کے چند آنسوؤں کے سوا ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے ؎ چند آنسو کے سوا کچھ مرے دامن میں نہیں لوگ حیرت سے مرا زادِ سفر دیکھیں گے لیکن آپ کے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مایوس نہیں ہونے دیا اور حدیثِ قدسی میں ہمیں خبر دے دی کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: لَاَ نِیْنُ الْمُذْنِبِیْنَ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ زَجَلِ الْمُسَبِّحِیْنَ؎ گناہ گاروں کی آہ و زاری مجھے تسبیح پڑھنے والوں کی بلند آوازوں سے زیادہ محبوب ہے اور یہی دلیل ہے کہ آپ ہمارے سچے اللہ ہیں۔ دنیوی بادشاہ تو اپنی تعریف کے محتاج ہیں، کیوں کہ تعریف سے ان کی عزت بڑھتی ہے، چناں چہ اگر ان کو استقبالیہ دیا جا رہا ہو اور ان کی شان میں قصیدے پڑھے جا رہے ہوں، اس وقت اگر کوئی مصیبت زدہ آ کر رو رو کر فریاد کرنے لگے، تو اس کو بھگا دیتے ہیں کہ کہاں ہمارے رنگ میں بھنگ ڈال دیا، لیکن اے اللہ! آپ اپنی تعریف و تسبیح وتحمید سے بے نیاز ہیں،کیوں کہ اس سے آپ کی عزت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ اگر ساری دنیا کے بادشاہ ایمان لا کر سجدہ میں گر جائیں اور دنیا میں ایک فرد بھی کافر نہ رہے، تو آپ کی عظمت میں ایک ذرّہ اضافہ نہیں ہو گا اور ساری دنیا کافر اور آپ کی باغی ہوجائے تو آپ کی عظمت میں ایک ذرّہ کمی نہیں ہو گی۔ آپ مخلوق سے بے نیاز ہیں۔ پس اگر آپ کے نبی رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نہ ہوتے تو اپنے گناہوں کی وجہ سے ہم مایوس ہوجاتے، لیکن مزاج شناسِ الوہیت سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مایوسیوں کے اندھیروں میں آفتابِ امید طلوع فرما دیا کہ اگر تم سے گناہ ہوگئے، تو تمہارا رب معاف کرنے کو محبوب رکھتا ہے، لہٰذا اس سے معافی مانگ ------------------------------