خزائن الحدیث |
|
کسی حاجت سے جارہا تھا، دیکھا کہ کچھ اللہ والے لوگ بیٹھے ہیں وہ بھی بیٹھ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے اس کو بھی بخش دیا، کیوں کہ میں اپنے مقبول بندوں کے پاس بیٹھنے والوں کو محروم نہیں کیا کرتا۔ ھُمُ الْجُلَسَاءُ لَا یَشْقٰی بِھِمْ جَلِیْسُھُمْ اس کی شرح میں علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اِنَّ جَلِیْسَھُمْ یَنْدَرِجُ مَعَھُمْ فِیْ جَمِیْعِ مَا یَتَفَضَّلُ اللہُ بِہٖ عَلَیْھِمْ؎ اللہ والوں کے پاس بیٹھنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ مندرج کر لیتا ہے، ان تمام انعامات میں جو اللہ والوں کو عطا کیے جاتے ہیں۔ وجہ کیا ہے؟ آگے مفعول لہٗ بیان ہو رہا ہے اِکْرَامًا لَّھُمْ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کا اکرام فرماتے ہیں۔ جب اولیاء اللہ کی صحبت کا یہ انعام ہے کہ ان کی صحبت کے فیض سے شقاوت سعادت سے تبدیل ہوجاتی ہے اور قلب میں اعمالِ صالحہ کی زبردست ہمت و توفیق عطا ہوجاتی ہے تو صحبتِ نبوت کے فیضان کا کیا عالم ہو گا؟ حالتِ ایمان میں جس پر نبوت کی نگاہ پڑگئی، وہ صحابی ہوگیا اور دنیا کا بڑے سے بڑا ولی بھی ایک ادنیٰ صحابی کے رتبہ کو نہیں پا سکتا۔ چناں چہ صحبتِ نبوت کے فیضان سے حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ کو فور اً تنبیہ ہوگئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)! ھُوَ حُرٌّ لِوَجْہِ اللہِاس غلام کو میں نے اللہ کے لیے آزاد کردیا، اس خطا کی تلافی میں۔ معلوم ہوا کہ خطاؤں کی تلافی بھی ضروری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَوْ لَمْ تَفْعَلْ لَلَفَحَتْکَ النَّارُ اَوْ لَمَسَّتْکَ النَّارُ؎ اگر تو ایسا نہ کرتا اور غلام پر یہ رحمت نہ دِکھاتا تو جہنم کی آگ تجھے جھلسا دیتی اور جلا کے خاک کر دیتی۔ یہ کون ہیں؟ صحابی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والے ہیں۔آج کس ظالم کا منہ ہے جو کہے کہ میں اتنا تہجد پڑھتا ہوں، صوفی ہوں، اتنا ذکر و فکر کرتا ہوں، میرے غصہ پر کوئی پکڑ نہیں ہو گی؟ ذرا سوچئے، یہ بات سوچنے کی ہے یا نہیں کہ اپنی عبادت پر اتنا ناز کہ ہم نے تہجد پڑھی ہے، لہٰذا مسلمانوں کو اور بھائیوں کو اور بہنوں کو اور بیویوں کو جس طرح چاہو ستاؤ، کوئی قانون نہیں۔ دیکھیے! صحبت یافتۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو مسعود رضی اﷲ عنہ کے لیےیہ حکم ہو رہا ہے کہ اگر تم نے رحمت نہ کی تو یاد رکھو قیامت کے دن ------------------------------