خزائن الحدیث |
|
یہ کلامِ نبوت کی بلاغت ہے کہ چند ضمیروں میں دو سطر کا مضمون بیان فرما دیا۔ اگر ہم اردو میں اس کا ترجمہ کریں تو ڈیڑھ دو سطر ہو جائے گی۔ فرمایا کہ اے ابا مسعود! اللہ تعالیٰ کو تجھ پر زیادہ قدرت ہے اس قدرت سے جو تجھ کو اس غلام پر حاصل ہے جس کو تو پیٹ رہا ہے۔ فرماتے ہیں:فَالْتَفَتُّ میں نے متوجہ ہو کر دیکھا کہ کہاں سے یہ آواز آئیفَاِذَا ھُوَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وہ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔یہ آپ کی آواز تھی ؎ جی اُٹھے مردے تری آواز سے یہ آوازِ نبوت تھی جس سے صحابہ رضی اللہ عنہم کے دل زندہ ہوتے تھےاور امراض کی اصلاح ہو جاتی تھی۔ بس اللہ تعالیٰ نے صحبتِ نبوت کے فیضان کی برکت سے فوراً ہدایت عطا فرما دی۔ اللہ والوں کی صحبت سے قلب میں اعمالِ صالحہ کی ایک زبردست قو ت و ہمت اور توفیق پید اہوجاتی ہے۔ چالیس چالیس سال سے انسان جس گناہ کو چھوڑنے کی طاقت نہ پاتا ہو، اللہ والوں کے پاس چند دن رہ کر دیکھے کہ کیا ہوتا ہے۔ بہت ہی مبارک بندہ ہے وہ جو اللہ والوں سے تعلق کر لے، جو اللہ کے دوستوں سے دوستی کر لے۔ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ یہ ہمارے، ہماروں کا ہمارا ہے، یہ ہمارے دوستوں کا دوست ہے، لہٰذا اس پر بھی فضل فرمادیتے ہیں اور اس کو بھی اپنا بنا لیتے ہیں، اللہ والوں کی صحبت سے تقدیریں بدل جاتی ہیں۔ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ھُمُ الْجُلَسَآءُ لَا یَشْقٰی بِھِمْ جَلِیْسُھُمْ اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کے پاس بیٹھنے والا شقی نہیں رہ سکتا،اس کی شقاوت کو سعادت سے اللہ تعالیٰ بدل دیتے ہیں۔ یہ لمبی حدیث ہے، جس کا ایک جُز یہ ہے کہ اللہ والوں کی مجلس میں ایک شخص غیر مخلص تھا وہ وہاں اللہ کے لیے نہیں بیٹھا تھا، کسی ضرورت سے جارہا تھا کہ وہاں بیٹھ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے پوچھا کہ میرے بندے کیاکر رہے تھے؟ اللہ تعالیٰ کو تو سب معلوم ہے، لیکن اپنے بندوں پر فخر و مباہات فرمانے کے لیے پوچھتے ہیں۔ آخری جُز اس لمبی حدیث کا یہ ہے کہ اے فرشتو! گواہ رہنا میں نے ان سب کو بخش دیا۔ فرشتوں نے عرض کیا کہ وہاں ایک بندہ ذکر کے لیے نہیں بیٹھا تھا اِنَّمَا جَآءَ لِحَاجَۃٍ وہ ------------------------------