خزائن الحدیث |
|
بہر ایں کر دست منع آں باشکوہ از تَرَھُّب و زشدن خلوت بکوہ تانہ گردد فوت ایں نَوْعُ الْتِقَا کاں نظر بخت است و اکسیر بقا مشورہ کن از گروہِ صالحاں بر پیمبر اَمْرُھُمْ شُوْرٰی بداں یک زماں زیں قبلہ گر ذ اہل شوی سخرۂ ہر قبلۂ باطل شوی چوں شوی تمیز دہ را نا سپاس بجہد از تو خطرۂ قبلہ شناس (تسہیل از مرتب: اس حدیثِ مذکور اور آیتِ مذکورہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جو لوگ جلوت کے دینی کاموں میں تو مسرور رہتے ہیں، لیکن خلوت میں ذکر واذکار سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ مشغول ہونے میں ان کا دل زیادہ مسرور نہیں ہوتا،یہ علامت ہے کہ اس شخص کی روح ابھی مقامِ قرب سے ناآشنا ہے۔ کسی کا مقامِ ولایت اتباعِ سنت کی برکت سے ذوقِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم سے جس قدر قریب ہوتا جاتا ہے، اسی قدر اس کو خلوت محبوب اور جلوت شاق ہونے لگتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے ارشاد وَاصْبِرْ نَفْسَکَ کی تعمیل میں جلوت کو بھی ترک نہیں کرتے،کیوں کہ دین کی بقاء تبلیغ و اصلاح اور دعوت الی اللہ کے ذریعہ جلوت اختیار کرنے ہی پر موقوف ہے۔)حدیث نمبر۷۷ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الصِّحَّۃَ وَالْعِفَّۃَ وَالْاَمَانَۃَ وَحُسْنَ الْخُلْقِ وَالرِّضَا بِالْقَدَرِ وَالْعَیْشَ بَعْدَ الْمَوْتِ؎ ------------------------------