خزائن الحدیث |
|
دیا۔ مار پٹائی کر رہے ہیں، گھر میں ایک شور مچا ہوا ہے۔ اکثر اس معاملہ میں بچوں پر زیادتی کرجاتے ہیں۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے، نرمی سے سمجھا دو کہ بیٹے! گلاس کو دونوں ہاتھوں سے مضبوط پکڑا کرو لیکن زیادہ پٹائی نہ کرو بلکہ کہو اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَاس کی زندگی کا وقت ختم ہو گیا تھا اور اس کا یہی وقت مقرر تھا۔ جس کے گھر میں کوئی غمی ہو جائے تو ایسے وقت میں اس کے ذمہ دو کام ہیں: ایک تو یہ کہ جانے والے کے لیے ثواب پہنچائیے کیوں کہ جو چلا گیا اب وہ بے عمل ہو گیا، اس کی عمل کی فیلڈ ختم ہو گئی، اب وہ خود کوئی عمل نہیں کر سکتا لہٰذا اس کو صبح و شام ثواب کا پارسل بھیجنا چاہیے یعنی زیادہ سے زیادہ ایصالِ ثواب کیجیے، بدنی عبادت اور مالی عبادت دونوں کا ثواب پہنچانا چاہیے۔ بدنی ثواب تو اس طرح سے کہ تلاوت کرلی مثلاً سورۃ یٰسین پڑھ کر بخش دیا یا تین مرتبہ قُلۡ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ پڑھ کر ہمیشہ صبح و شام بخش دیا، تین بار قُلۡ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ پڑھنے سے ایکقرآن کے برابر ثواب ملتا ہے، اللہ سے کہہ دیا کہ یا اللہ! یہ جو میں نے پڑھا ہے اس کا ثواب میری والدہ کو پہنچا دیجیے، اس طرح روز کا روز صبح و شام آپ کی طرف سے ثواب کا پارسل پہنچتا رہے گا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب یہ ثواب پہنچتا ہے تو وہ مرنے والے پوچھتے ہیں کہ اللہ میاں! یہ ہماری نیکیاں کہاں سے بڑھ رہی ہیں، ہم تو مر گئے ہیں، اب عمل نہیں کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تمہاری اولاد تمہیں ثواب بھیج رہی ہے۔دیکھیے زمین پر دوسروں کا عمل آخرت میں مرنے والوں کے اعمال نامہ میں لکھا جا رہا ہے، اس طرح ان کے عمل کا میٹر چل رہا ہے، کیوں کہ اب وہ عمل نہیں کر سکتے لہٰذا ہمارے پارسلوں کا انتظار کرتے ہیں کہ ہماری اولاد ہمیں کچھ بھیجے۔ حدیث شریف میں ہے کہ یہ ثواب کا تحفہ ان کو دنیا و ما فیہا سے زیادہ محبوب ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کا معمول بنالیجیے کہ روزانہ ہمیشہ کچھ پڑھ کر اپنے اعزاء و اقرباء کو جو مر گئے ہیں بخش دیا کریں، کم از کم صبح و شام تین مرتبہ قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌشریف تین مرتبہقُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِتین مرتبہقُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِپڑھ کر بخش دیا اور اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مخلوق کے ہر شر سے حفاظت رہے گی، کسی قسم کا کالا جادو یا جنات یا شیطان کوئی پڑوسی اور کوئی حاسد آپ کو ایک ذرّہ نقصان نہیں پہنچا سکتا، کیوں کہ الفاظِ نبوت ہیں اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام ہےتَکْفِیْکَ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ؎ یعنییہ تینوں سورتیں ہر شر سے حفاظت کے لیے کافی ہیں۔ ------------------------------