خزائن الحدیث |
|
نبی کی بات کو اللہ نہیں ٹالتا کیوں کہ نبی وہی کہتا ہے جو اللہ کہلاتا ہے، نبی اپنی طبیعت سے کوئی بات کہتا ہی نہیں۔ صبح کو پڑھ لیا تو شام تک حفاظت ہو گئی اور شام کو پڑھ لیا تو رات بھر حفاظت رہے گی۔ اگر کوئی حاسد جادو یا سفلی عمل کرے گا تو اس عمل کی برکت سے اُلٹا اسی پر پڑ جائے گا۔ کوئی دشمن آپ کے خلاف اسکیم بنائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو نا کام کر دیں گے۔ اس لیے صبح و شام یہ تینوں سورتیں آپ بھی پڑھیے اور اپنے بیوی بچوں کو بھی پڑھائیے اور اسی کو اپنی والدہ کو بخش دیجیے ان کو ثواب بھی پہنچ جائے گا اور آپ لوگ حاسدین اور شیاطین کے شر سے اور جنات اور کالا عمل کرانے والوں کے شر سے اور ساری مخلوق کے شر سے محفوظ رہیں گے۔ آج کل تو بس ذرا ذرا سی دشمنی پر جادو اور کالا عمل کرا دیتے ہیں پھر ہم لوگ عاملوں کی طرف دوڑتے ہیں، تو عاملوں کے پاس جانے کے بجائے ہم یہ عمل کیوں نہ کر لیں جو ہمیں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عطا فرمایا ہے، جس کے بعد کسی عامل کے پاس جانے کی کبھی ضرورت نہیں پڑے گی کیوں کہ آج کل ننانوے فیصد عامل ٹھگ بیٹھے ہیں۔ دوسرا کام ان کے جانے کے بعد پسماندگان کو یعنی رہ جانے والوں کو سبق حاصل کرنا کہ آج ان کی اور کل ہماری باری ہے، ایک دن آئے گا کہ اسی طرح ہم بھی اس دنیا سے جارہے ہوں گے اور آج کل تو ایمرجنسی ویزے آرہے ہیں۔ ۴۵ سال کے مولانا سعد ی مکہ شریف میں رہتے تھے، بڑے رئیس تھے، اچھے خاصے تھے۔اچانک ٹیلی فون آتا ہے کہ چائے پی رہے تھے، ہاتھ سے چائے کی پیالی گری اور انتقال ہوگیا ، نہ کوئی دل کی بیماری تھی، خوب اچھی صحت تھی اس لیے دوستو! اپنے پیاروں کے انتقال سے ہم سب کو سبق حاصل کرنا چاہیے کہ ایک دن ہم کو بھی زمین کے نیچے جانا ہے، مردہ جب قبر کے اندر جاتا ہے تو زبانِ حال سے کہتا ہے ؎ شکریہ اے قبر تک پہنچانے والو! شکریہ اب اکیلے ہی چلے جائیں گے اس منزل سے ہم اور بزبانِ حال دوسرا شعر بھی پڑھتا ہے ؎ دبا کے قبر میں سب چل دیے دعا نہ سلام ذرا سی دیر میں کیا ہو گیا زمانے کو جن ماؤں نے ہمیں مرمر کے پالا تھا ان ہی ماؤں پر آج ہم نے خدا کے حکم سے مٹی ڈالی ہے۔ یہ دن سب کو آنا ہے ۔ اس لیے اس سے سبق حاصل کریں یعنی جہاں ہمیشہ رہنا ہے وہاں کے لیے تیاری کریں۔