خزائن الحدیث |
|
عنوان ہے؟ دیہات کے تھے وہ، لیکن اللہ جس کو چاہے مضمون عطا فرماتا ہے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اِنَّ لِلہِ مَا اَخَذَ وَ لَہٗ مَا اَعْطٰی اللہ جو چیز ہم سے لیتا ہے وہ ہماری نہیں اللہ ہی کی ہے، اس کا مالک اللہ ہے، جو چیز اس نے لے لی ہے وہ اسی نے عطا فرمائی تھی۔ اگر کوئی اپنی امانت واپس لے لے تو آپ اس پر زیادہ غم نہیں کرتے کیوں کہ وہ آپ کی چیز نہیں تھی، جس کی تھی اس نے لے لی، وہ اس کا مالک ہے۔ ہم کو جو حد سے زیادہ غم ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم لوگ غلطی سے اس کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔حالاں کہ الفاظِ نبوت یہ ہیں اِنَّ لِلہِ مَا اَخَذَجو کچھ اللہ نے تم سے لے لیا، جس کو اللہ نے اپنے پاس بلا لیا وہ اللہ ہی کا تھا، اسے تم کیوں اپنا سمجھتے ہو؟ اگر آپ کو کوئی شخص اپنی گھڑی دے دے کہ آپ دو مہینے اس کو استعمال کر لیجیے پھر دو مہینے کے بعد وہ آپ سے گھڑی مانگے کہ میری گھڑی واپس کر دیجیے تو آپ روئیں گے نہیں، آپ یہی کہیں گے کہ ٹھیک ہے صاحب! لیجیے،یہ آپ کی گھڑی ہے بلکہ آپ کا شکریہ کہ اتنے دن تک آپ نے اپنی گھڑی مجھے دی تھی۔ تو آپ بھی شکر کریں کہ ہماری والدہ کو اللہ نے اتنی زندگی دی ورنہ اس سے پہلے بھی تو اللہ تعالیٰ ان کو اُٹھا سکتے تھے، بچپن ہی میں آپ کو چھوٹا سا چھوڑ کر اللہ تعالیٰ اُٹھا سکتے تھے، یہ اُن کا احسان ہے کہ آپ لوگ بڑے ہو گئے، ما شاء اللہ بال بچے دار ہو گئے تب بلایا، اتنے روز تک آپ کے پاس رکھا لہٰذا شکر ادا کیجیے کہ اللہ! آپ کا شکر ہے کہ آپ نے ہماری والدہ کو اتنے عرصہ ہمیں دے رکھا، جیسے وہ شخص کہتا ہے جس کو آپ نے گھڑی دی کہ ہم آپ کے شکر گزار ہیں کہ اتنے عرصہ تک اپنی گھڑی آپ نے ہمیں دی ہوئی تھی۔ جو کچھ لے لیا وہ بھی اللہ کا وَلَہٗ مَا اَعْطٰیاور جو کچھ عطا فرمایا وہ بھی اللہ ہی کا ہے، جو چیزیں دی ہیں ان کا بھی شکر ادا کیجیے، ان کا شکر کیا ہے کہ یا اللہ! آپ کا احسان ہے کہ آپ نے میرے والد کا سایہ میرے سر پر عطا فرمایا ہوا ہے اور کتنی نعمتیں دی ہوئی ہیں۔ میری اولاد ہے، بیوی بچے ہیں، مکان ہے، ہزاروں نعمتیں دی ہوئی ہیں جن کا شمار نہیں کیا جا سکتا، ان کا شکر ادا کیجیے کہ اے اللہ! آپ کی بے شمار نعمتوں کا بے شمار زبانوں سے شکر ادا کرتا ہوں وَکُلٌّ عِنْدَہٗ بِأَجَلٍ مُّسَمًّی؎ اور اللہ تعالیٰ کے یہاں ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے، جو کچھ اللہ لیتا ہے اور جو کچھ عطا فرماتا ہے اللہ تعالیٰ کے یہاں پہلے ہی سے مقدر ہے یہاں تک کہ برتنوں کا وقت بھی مقرر ہے مثلاً آپ مدینہ شریف سے ایک گلاس لائے لیکن اچانک کسی بچہ سے وہ گر گیا تو سمجھ لیجیے کہ اس کا یہی وقت مقرر تھا۔ حدیث پاک میں ہے کہ برتنوں کی بھی ایک عمر ہوتی ہے اس لیے اپنے بچوں کی بے طرح پٹائی نہ کرو کہ نا لائق! تو نے مدینہ شریف کا گلاس کیوں توڑ ------------------------------