خزائن الحدیث |
|
ہوئے نصیحت کرے اس وقت تک اس کو نصیحت کرنا جائز نہیں۔ اگر وہ اپنے کو بڑا سمجھ کر اور دوسرے کو حقیر سمجھ کر نصیحت کر رہا ہے تو ایسی تبلیغ اس پر حرام ہے۔ جس کو نصیحت کیجیے تو پہلے یہ مراقبہ کیجیے کہ یا اللہ!یہ بندہ مجھ سے بہتر ہے، لیکن آپ کا حکم سمجھ کر اس کی بھلائی اور خیر خواہی کے لیے نصیحت کررہا ہوں۔ جب قیامت کے دن اللہ کی نظر میں ہماری نماز، ہمارے سجدے، ہمارا وعظ، ہماری پیری مریدی، ہمارے حج ،ہمارے عمرےاور ہماری نیکیاں پسند آجائیں اور اللہ تعالیٰ فرما دیں کہ ہم نے قبول کیا تب خوش ہونا۔ ابھی کیا پتا ہے کہ ان کی نظر میں ہم کیسے ہیں، کیا کوئی خبر آئی ہے؟ عشرہ مبشرہ اور صحابہ جن کو اللہ تعالیٰ نے فرما دیا رَضِیَ اللہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ کہ میں ان سے راضی ہوں وہ مستثنیٰ ہیں،مگر ہم لوگوں پر تو کوئی آیت نازل نہیں ہوئی، لہٰذا ڈرتے رہیے، اپنی قیمت خود نہ لگائیے۔ وہ غلام نہایت بے وقوف ہے جو اپنی قیمت خود لگالے۔ بھائی!غلام کی قیمت مالک لگاتا ہے یا وہ خود لگاتا ہے؟ غلام کی قیمت تو مالک لگاتا ہے۔ بس جب قیامت کے دن مالک تعالیٰ شانہٗ ہماری قیمت لگا دیں اور فرما دیں کہ میں تم سے راضی ہوں پھر جتنا چاہو اُچھلو کودو۔ بڑے پیر صاحب شاہ عبدالقادر جیلانی صاحب رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے تھے کہ جب ایمان کو سلامتی سے قبر میں لے جاؤں گا اور اللہ تعالیٰ فرما دے گا کہ میں تم سے خوش ہوں تب میں وہاں خوب خوشی مناؤں گا۔ ابھی تو روتے ہی رہو، اللہ سے ڈرتے رہو اور عمل بھی کرتے رہو، لیکن اتنا خوف بھی نہ ہو کہ نا اُمید ہو کر عمل ہی چھوٹ جائے۔ خوف بس اتنا ہی مطلوب ہے کہ آدمی گناہوں سے بچ جائے،’’ خوف‘‘ اور’’ امید‘‘ کے درمیان میں ایمان ہے۔ میرے شیخ فرمایا کرتے تھے کہ کرتے رہو اور ڈرتے رہو۔ دیکھیے جب یہ آیت نازل ہوئی: وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا وَّ قُلُوۡبُہُمۡ وَجِلَۃٌ ؎ وہ لوگ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں۔ یہاں اسمِ موصول مَابلاغت کے لیے ہے، اسمِ موصول میں اِبہام ہوتا ہے جس سے بلاغت مقصود ہوتی ہے یعنی صحابہ اللہ کے راستے میں خوب خرچ کرتے ہیں، لیکن اس سے ان کے دل میں اکڑ نہیں آتی بلکہ ڈرتے رہتے ہیں۔ تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا کہ یارسول اللہ!( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم!) اس آیت کی کیا تفسیر ہے؟ یعنی خوب خرچ کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اللہ کے راستے میں، جہاد میں مال دیتے ہیں پھر کیوں ڈرتے ہیںاَھُوَ الرَّجُلُ یَسْرِقُ وَ یَزْنِیْ وَیَشْرَبُ الْخَمْرَ کیا یہ چوری کرتے ہیں، زِنا کرتے ہیں اور شراب پیتے ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: نہیں، ایسا نہیں ہے ------------------------------