خزائن الحدیث |
|
ساتھ برائی سے پیش آ رہا ہے ، ہر ایک کی غیبت کر رہا ہے۔ باپ ہر گز ایسے کو دوست نہیں بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا بھی معاملہ یہی ہے۔ ایک شخص خوب عبادت کرتا ہے، تہجد بھی، اشراق بھی، چاشت بھی، لیکن اللہ کے بندوں کو حقیر سمجھتا ہےاور ان کی غیبت کرتا ہے، ان کو ستاتا ہے یا کسی کو بُری نگاہ سے دیکھتا ہے اور دل میں بُرے بُرے خیال پکاتا ہے، یہ اللہ کے بندوں کے ساتھ مخلص نہیں، تو ایسے کو اللہ تعالیٰ ہر گز اپنا ولی نہیں بناتے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اَلْخَلْقُ عِیَالُ اللہِ فَاَحَبُّ الْخَلْقِ اِلَی اللہِ مَنْ اَحْسَنَ اِلٰی عِیَالِہٖ؎ پوری مخلوق اللہ کی عیال ہے، اللہ کا سب سے پیارا بندہ وہ ہے جو اللہ کے بندوں کے ساتھ احسان اور بھلائی کرے، ان کا مخلص رہے، خیر خواہ رہے، دعا گو رہے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اپنا حال بیان فرماتے ہیں۔ کبھی کبھی اولیاءاللہ اپنا حال ظاہر کر دیتے ہیں مخلوق کی ہدایت کے لیے ،فرماتے ہیں کہ میرا حال تویہ ہے کہ میں تمام مومنوں کے لیے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو تقویٰ کی دولت عطا فرمادے، ہمیشہ عافیت سے رہیں اور کافروں کے لیے بھی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ایمان کی دولت عطا فرمادے اور چیونٹیوں کے لیے بھی دعا کرتا ہوں کہ اے خدا! چیونٹیاں بھی بلوں میں آرام سے رہیں اور سمندر کی مچھلیوں کے لیے بھی دعا مانگتا ہوں اور ساری کائنات کے لیے رحمت کی درخواست کرتا ہوں۔ ان کو کہتے ہیں اولیاء اللہ، جو اللہ تعالیٰ کی ساری کائنات پر رحم دل ہوں اور خدا کی مخلوق کی بھلائی چاہتے ہوں، ولایت اِسی کا نام ہے، یہی لوگ ہیں کہ اللہ کے یہاں ان کا بلنددرجہ ہو گا۔ دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایک ذرّہ درد عطا فرمائے اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ اَللّٰھُمَّ وَفِّقْنَا لِمَا تُحِبُّ وَ تَرْضٰی۔ تو اس بات کو خوب سمجھ لیجیے کہ تکبر دو جزء سے بنتا ہے:۱)بَطَرُ الْحَقِّحق بات کو قبول نہ کرنا اور(۲) غَمْطُ النَّاسِ دنیا کے کسی بھی انسان کو حقیر سمجھنا۔ اَلنَّاسُ فرمایااوراَلْمُسْلِمُنہیں فرمایا۔ اسی سے نکلتا ہے کہ کسی کافر کو بھی حقیر مت سمجھو، اس کے کفر سے تو نفرت کرو اس کی ذات سے نہیں۔ معاصی سے تو نفرت کرو لیکن دوستو! عاصی سے نفرت نہ کرو، معاصی سے نفرت واجب اور عاصی سے نفرت حرام، نکیر واجب تحقیر حرام، یعنی کسی بُری بات پر سمجھانا تو واجب ہے لیکن اس کو حقیر سمجھنا حرام ہے، اس لیے حضرت حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب تک کسی کے نفس میں اتنی صلاحیت نہ پیدا ہو جائے کہ نصیحت کرنے والا جس کو نصیحت کر رہا ہے اس کو اپنے سے بہتر سمجھتے ------------------------------