خزائن الحدیث |
|
حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ انسان اپنے وجود میں دو مرتبہ کس قدر گندے راستے سے گزرتا ہے، ایک مرتبہ باپ کے پیشاب کی نالی سے نطفہ کی شکل میں ماں کے شکم میں گیا اور دوسری مرتبہ ماں کے رحم سے نا پاک راہ سے وجود میں آیا پھر تکبر کیسے زیبا ہو گا؟ بڑے بڑے متکبر بادشاہوں کی موت قبر میں کیا حال کرتی ہے اور کس طرح لاکھوں کیڑوں کی غذا بناتی ہے۔ جس طرح امتحان کا نتیجہ سننے سے قبل اپنے کو بڑا اور کامیاب سمجھنے والا طالبِ علم بے وقوف ہے، اسی طرح میدانِ محشر میں اپنا فیصلہ سننے سے قبل دنیا میں اپنے کو کسی سے افضل سمجھنا اور بڑا سمجھنا حماقت ہے۔ حضرت علامہ سید سلیمان صاحب کا خوب شعر ہے ؎ ہم ایسے رہے یا کہ ویسے رہے وہاں دیکھنا ہے کہ کیسے رہے یہی حال ہمارا ہے کہ ہر وقت اپنے نفس کی شرارت اور خباثت اور گناہوں کے تقاضوں کو جانتے ہوئے، جہاں کسی نے ذرا تعریف کر دی کہ حضرت! آپ ایسے ہیں، بس حضرتی کا نشہ چڑھ گیا اور اپنے نفس کو بھول گئے۔ اللہ والے ایسے وقت اور شرمندہ ہو جاتے ہیں اور حق تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کی ستّاری کا شکر ادا کرتے ہیں۔ حضرت حاجی صاحب مہاجر مکی رحمۃ اﷲ علیہ کا ارشاد ہے کہ جو لوگ مجھ سے محبت اور عقیدت رکھتے ہیں یہ سب حق تعالیٰ کی ستّاری ہے، ورنہ اگر وہ ہمارے اترے پترے کھول دیں تو سب معتقدین راہِ فرار اختیار کریں۔ پس مخلوق کا حسنِ ظن بھی حق تعالیٰ کا انعام ہے اور اپنے کو کمتر اور حقیر سمجھنا درجۂ یقین میں ایک بیّن حقیقت کو تسلیم کرنا ہے اور عبدیتِ کا ملہ کے لوازم سے ہے۔ یہ تکبر کا مرض اتنا خطرناک مرض ہے کہ ایک شخص تہجد پڑھتا ہے، اشراق پڑھتا ہے، تبلیغ میں چلّے لگاتا ہے، بخاری شریف پڑھاتا ہے، مگر جب مرا تو دل میں تکبر لے کر گیا، قیامت کے دن اس کا کیا حال ہو گا؟ وہ حدیث شریفسن لیجیے، مسلم شریف کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت میں وہ شخص داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں رائی کے برابر بھی تکبر ہو گا۔ یعنی جس کے دل میں ذرّہ کے برابر بھی بڑائی ہو گی ایسا شخص جنت میں نہ جائے گا۔ یہ وہ زبردست ایٹم بم ہے کہ سو برس کا تہجد، سو برس کی زکوٰۃ، سو برس کے حج اور عمرے، سو برس کی نفلیں اور تلاوت، سو برس کی عبادت، ساری زندگی کے اعمال کو ہیرو شیما کر دیتا ہے، جیسے ایٹم بم کا وہ ذرّہ ------------------------------