خزائن الحدیث |
|
میں عزت والا ہوتا ہے اور جب اپنی نظر میں اچھا اور بڑا ہوتا ہے تو حق تعالیٰ کی نظر میں حقیر اور ذلیل ہوتا ہے معاصی سے نفرت واجب ہے،لیکن عاصی سے نفرت حرام ہے۔ اسی طرح کسی کافر کو بھی نگاہِ حقارت سے نہ دیکھے، کیوں کہ ممکن ہے کہ اس کا خاتمہ ایمان پر مقدر ہوچکا ہو، البتہ اس کے کفر سے نفرت واجب ہے ؎ ہیچ کافر را بخواری منگرید کہ مسلماں بودنش باشد اُمید حضرت حکیم الامت تھانوی رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ میں اپنے کو تمام مسلمانوں سے فی الحال اور کافروں اور جانوروں سے فی الماٰل کمتر سمجھتا ہوں یعنی موجودہ حالت میں ہر مسلمان مجھ سے اچھا ہے اور خاتمہ کے اعتبار سے کہ نہ معلوم کیاہو؟ اپنے کو کفار سے بھی کمتر سمجھتا ہوں۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اﷲ علیہ کا قول ہے کہ مومن کامل نہ ہو گا جب تک کہ اپنے کو بہائم اور کفار سے بھی کمتر نہ جانے گا۔ جب حق تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ چاہیں تو بڑے سے بڑے گناہ کو بدونِ سزا معاف فرما دیں اور چاہیں تو چھوٹے گناہ پر گرفت کر کے عذاب میں پکڑیں، تو پھر کس منہ سے آدمی اپنے کو بڑا سمجھے اور کیسے کسی مسلمان کو خواہ وہ کتناہی گناہ گار ہو حقیر سمجھے۔ حضرت سعدی شیرازی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ؎ ازیں بر ملائک شرف داشتند کہ خود را بہ از سگ نہ پنداشتند اللہ والے اس سبب سے فرشتوں پر شرف و عزت میں بازی لے جاتے ہیں کہ خود کو کُتّے سے بھی بہتر نہیں سمجھتے۔ امام غزالی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ ولایت و قرب کو حق تعالیٰ نے بندوں میں مخفی رکھا ہے، لہٰذا کسی بندہ کو خواہ کیسا ہی گناہ گار ہو حقیر نہ جانو کہ کیاخبر شاید یہی بندہ علمِ الٰہی میں ولی ہو اور اس کی ولایت کسی وقت بھی توبۂ صادقہ اور اتباعِ سنت کی صورت میں ظاہر ہوجائے۔ جیسا کہ تاریخ شاہد ہے کہ بعض بندے زندگی بھر رند بادہ نوش، مست و خراب بادہ اور فسق و فجور میں مبتلا رہتے ہیں اور اچانک اُن میں تبدیلی آ جاتی ہے اور توبہ کر کے پاک و صاف ہو جاتے ہیں،جیسے کوئی شہزادہ حسین جس کے منہ پر کالک لگی ہو اچانک صابن سے نہا دھوکر چاند کی طرح روشن چہرہ والا ہو جائے ؎ جوش میں آئے جو دریا رحم کا گبرِ صد سالہ ہو فخرِ اولیا ------------------------------