خزائن الحدیث |
|
بعد وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ نازل نہ ہوتا۔ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ نازل فرما کر ہمیں بتا دیا کہ تم اپنی ادائے بندگی میں میری عطائے خواجگی کے محتاج ہو، میری مدد اور اعانت کے محتاج ہو لہٰذا اِیَّاکَ نَعْبُدُ تو کہو کہ اے اللہ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں لیکن فوراً وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ سے میری اعانت مانگو کیوں کہ بغیر میری مدد کے تم میری بندگی نہیں کر سکتے۔ پس جو شخص خوفِ شکستِ توبہ رکھتا ہے، یہ دلیل ہے کہ وہ اپنے دست و بازو پر بھروسہ نہیں رکھتا بلکہ اپنی استقامت کو اللہ کی اعانت کا محتاج سمجھتا ہے لہٰذا اس کو دو قرب حاصل ہیں: خوفِ شکستِ توبہ کا قرب الگ اور عزم علی التقویٰ کا قرب الگ ؎ کبھی طاعتوں کا سرور ہے کبھی اعترافِ قصور ہے ہے مَلک کو جس کی نہیں خبر وہ حضور میرا حضور ہے سرورِ عالم صلی اﷲعلیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ الْمُفَتَّنَ التَّوَّابَ؎ اللہ محبوب رکھتا ہے اس بندہ کو جو مؤمن ہے لیکن بار بار خطا میں مبتلا ہو جاتا ہے مگر توّاب بھی ہے، کثیر التوبہ ہے، بار بار توبہ کرتا ہے، توبہ میں انتہائی مبالغہ کرتا ہے، ندامت سے قلب و جگر اللہ کے حضور پیش کرتا ہے، سجدہ گاہ کو آنسوؤں سے تر کر دیتا ہے، یہ بھی اللہ کا محبوب ہے، بندۂمومن مبتلائے فتنہ، کثرتِ توبہ کی برکت سے اللہ تعالیٰ کے دائرۂ محبوبیت سے خارج نہیں ہوتا۔ اگر کسی سے ایک کروڑ زِنا ہو گیا، ایک کروڑ وی سی آر اور ننگی فلمیں دیکھ لیں، بے شمار بد نظری کر لی وہ بھی مایوس نہ ہو۔ ایکدفعہ دو رکعات توبہ پڑھ کر اشکبار آنکھوں سے، تڑپتے ہوئے دل سے اللہ سے معافی مانگ لے اللہ تعالیٰ اسی وقت تمام گناہ معاف کردیتے ہیں۔ پھر کبھی سوچو بھی مت کہ گناہوں کی تعداد کیا ہے؟ سمندر کا ایک قطرہ جو نسبت سمندر سے رکھتا ہے اللہ تعالیٰ کی غیر محدود شانِ غفاریت کے سامنے ہمارے گناہوں کی اتنی بھی حقیقت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کی ہر شان غیرمحدود اور بے شمار ہے اور ہمارے گناہوں کے شمارے محدود ہیں۔ اسی لیے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: اَللّٰھُمَّ مَغْفِرَتُکَ اَوْسَعُ مِنْ ذُنُوْبِیْ؎ ------------------------------