خزائن الحدیث |
|
مغلوب ہو کر توبہ ٹوٹ گئی تو اس سے پہلی توبہ باطل نہیں ہوئی وہ ان شاء اللہ قبول ہے۔ پھر دوبارہ توبہ کر لو اور پھر عزم کرو کہ آیندہ کبھی توبہ نہ توڑوں گا اورکبھی یہ گناہ نہ کروں گا۔ تو میں نے گزارش کی کہ قلب میں اللہ تعالیٰ کی محبت کا دریائے لازوال و غیر محدود حاصل کرنے کا یعنی منتہائے اولیائے صدیقین تک پہنچنے کا راستہ یہ ہے کہ حواسِ خمسہ کے راستوں سے حرام لذت کا ایک ذرّہ داخل نہ ہونے دو اور ارادہ کر لو کہ اولیائے صدیقین کی آخری سرحد تک پہنچ کر مریں گے اور دعا بھی کرو کہ اے اللہ! ہم سب کو اولیائے صدّیقین کی خطِ انتہا تک پہنچا دے، ہم کو بھی، ہمارے بال بچوں کو بھی، ہمارے احبابِ حاضرین اور غائبین کو بھی۔ اب سوال یہ ہوتا ہے کہ اولیائے صدّیقین کون ہیں؟ تو علامہ آلوسی رحمۃ اﷲ علیہ نے صدّیق کی تین تعریفیں کی ہیں: ۱)اَلَّذِیْ لَایُخَالِفُ قَالُہٗ حَالَہٗ جس کا قول اور حال ایک ہو یعنی دل و زبان ایک ہو ، جس کا دل اس کی زبان کے ساتھ ہو یعنی زبان اس کے دل کی ترجمان ہو، اس کے قول و حال اور دل اور زبان میں فاصلے نہ ہوں۔ اور صدیق کی دوسری تعریف ہے: ۲) اَلَّذِیْ لَا یَتَغَیَّرُبَاطِنُہٗ مِنْ ظَاھِرِہٖجس کا باطن ظاہری حالات سے متأثر نہ ہو۔اور صدیق کی تیسری تعریف ہے : ۳) اَلَّذِیْ یَبْذُلُ الْکَوْنَیْنِ فِیْ رِضَامَحْبُوْبِہٖ؎ صدیق وہ ہے جو دونوں جہاں اللہ پر فدا کر دے۔ دنیا فدا کرنا تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن آخرت کیسے فدا کریں؟ یعنی جنت کے لالچ میں نیک عمل مت کرو، اللہ کی خوشی کے لیے کرو اور جنت کو ثانوی درجہ میں رکھو۔ دلیل اس کییہ ہے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ أَسْئَلُکَ رِضَاکَ وَالْجَنَّۃَ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ سَخَطِکَ وَالنَّارِ؎ سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا جنت کو مؤخر کرنا دلیل ہے کہ اے اللہ کے عاشقو! پہلے اللہ کو خوش کرنے کے لیے روزہ نماز کرو، جنت کو ثانوی درجہ میں رکھو اور گناہ جب چھوڑ و تو پہلے اللہ کی ناراضگی کے خوف سے چھوڑو اور اس کی دلیل ہے وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ سَخَطِکَ وَالنَّارِ اے خدا! پہلے میں تیری نا خوشی سے پناہ چاہتا ------------------------------