خزائن الحدیث |
|
لیے اس کا ہر زمان اورہر مکان نورِ تقویٰ سے مشرف ہے، لہٰذا متقی کو ذکرِ دوام اور عبادتِ دائمہ حاصل ہے۔ بتائیے! اللہ کو ناراض نہ کرنا کیا عبادت نہیں ہے؟ یہی وہ عبادت ہے کہ بہ نصِ قطعی جس سے اللہ کی ولایت اور دوستی نصیب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اِنۡ اَوۡلِیَآؤُہٗۤ اِلَّا الۡمُتَّقُوۡنَ؎ صرف متقی بندے اللہ کے اولیاء ہیں۔ تقویٰ غلامی کے سر پر ولایت کا تاج رکھتا ہے، لیکن متقی کے معنیٰ یہ نہیں ہیں کہ کبھی اس سے خطا ہی نہ ہو گی، احیاناً کبھی صدورِ خطا بھی ہو سکتا ہے، لیکن وہ خطا پر قائم نہیں رہ سکتا اورگریہ و زاری، اشکباری اور آہ وزاری سے پھر اللہ کی یاری حاصل کر لیتا ہے۔ یہ صاحبِ خطا بہ برکتِ استغفار و توبہ صاحبِ عطا ہو جاتا ہےاور ایسا شخص بھی متقین کے زُمرہ میں شمار ہوگا۔ حضرت حکیم الامت تھانوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ متقی رہنا اتنا ہی آسان ہے جتنا با وضو رہنا۔ وضو ٹوٹ جائے تو دوبارہ وضو کر کے آدمی باوضو ہوجاتا ہے، اسی طرح اگر کبھی تقویٰ ٹوٹ جائے تو پھر توبہ و استغفار کر لو آپ متقی کے متقی ہیں۔ خطا پر ندامت و آہ آپ کو دائرۂ تقویٰ سے خارج نہیں ہونے دے گی۔ عابدین کی عبادت و قتیہ محدودیہ ہے، وہ اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کی عبادت میں ایک محدود وقت تک ہی رہ سکتے ہیں، مثلاً نوافل اور ذکر و تلاوت ایک محدود وقت تک ہی کر سکتے ہیں، لیکن جو شخص تقویٰ سے رہتا ہےاور گناہ سے بچتا ہے وہ ہر وقت عبادت میں ہے۔ اس کا ہرمنٹ، ہر سیکنڈ، ہر سانس اللہ تعالیٰ کو ناراض نہ کرنے کی عبادت میں مشغول ہے، اس لیے متقی چوبیس گھنٹہ کا عبادت گزار ہے، کیوں کہ چوبیس گھنٹے وہ اللہ کو ناراض نہ کرنے کی عبادت میں ہے۔ قلباًو قالباً و عیناً ،ایک لمحہ بھی اللہ کو ناراض نہیں کرتا اسی لیے اس حدیثِ پاک میں متقی کو سب سے بڑا عبادت گزار فرمایا گیا۔ اور اگر کبھی خطا ہو جائے تو جب تک توبہ و استغفار سے، اشکبار آنکھوں سے اللہ کو راضی نہیں کر لیتا اس کو چین نہیں آتا۔ حضرت حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ متقی رہنا اتنا ہی آسان ہے جتنا باوضو رہنا کہ وضو اگر ٹوٹ جائے تو دوبارہ وضو کر لو۔ اسی طرح تقویٰ اگر کبھی ٹوٹ جائے تو توبہ کر کے دوبارہ متقی ہو جاؤ۔ بس شرط یہی ہے کہ توبہ کرتے وقت توبہ توڑنے کا ارادہ نہ ہو، پکّا ارادہ ہو کہ اب یہ گناہ کبھی نہیں کروں گا۔ اگر وسوسہ آئے کہ تو پھر یہ گناہ کرے گا تو وسوسہ کا اعتبار نہیں۔ وسوسۂ شکستِ توبہ، عزمِ شکستِ توبہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود بالفرض اگر آیندہ کبھی نفس سے ------------------------------