خزائن الحدیث |
|
طرف بھی دیکھتے رہو کہ کہیں میرا ٹخنہ چھپ تو نہیں رہا، یہ ذکر، ذکرِ منفی ہے، اللہ کی عظمت کا حق ہے۔ اب کوئی کہے کہ یہ حکم قرآن میں تو نہیں ہے؟ میں کہتا ہوں کہ اللہ پاک نے قرآن میں فرمایا کہ میرا نبی جو تم کو حکم دے دے اس کو قرآن کاحکم سمجھو: وَ مَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ ٭ وَ مَا نَہٰىکُمۡ عَنۡہُ فَانۡتَہُوۡا ؎ میرا نبی جس بات کا حکم کرے اس کو کرو اور جس سے منع کرے اس سے رُک جاؤ۔ یہ قرآن پاک کی آیت ہے نا! لہٰذا حدیث کو ماننا عینِ قرآن کو ماننا ہے اور حدیث کی نا فرمانی قرآنِ پاک کی نافرمانی ہے۔ یہ بخاری شریف کی حدیث ہے مَاۤ اَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ مِنَ الْاِزَارِ فِی النَّارِجس کا ٹخنہ اوپر سے آنے والے لباس مثلاً شلوار، پاجامہ، لنگی وغیرہ سے چھپا رہے گا، اُتنا حصہ جہنم میں جلے گا۔دوسری حدیث میں ہے کہ جو تکبر سے ایسا کرے گا،اِس حدیث کو لے کر آج لوگ خوب ہوشیاریاں اور چالاکیاں دِکھارہے ہیں کہ صاحب! میرا ٹخنہ تکبر کی وجہ سے نہیں ڈھک رہا ہے حالاں کہ کبھی کسی صحابی نے ٹخنہ نہیں ڈھکا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیٹ نکلا ہوا تھا اِس لیے آپ کا پاجامہ لٹک جاتا تھا لیکن آپ ہر وقت اُس کو اہتمام سے اوپر کرتے رہتے تھے اور وحی الٰہی سے سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زبانِ رسالت سے اس بات کا اعلان ہوا کہ حضرت ابوبکر صدیق تکبر سے پاک ہیں، آج کے زمانہ میں کس کو سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مستثنیٰ فرمایا؟ کسی کے لیے وحی نازل ہوئی؟ لہٰذا جو لوگ ٹخنے ڈھک رہے ہیں وہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی نافرمانی کررہے ہیں۔ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اﷲ علیہ جن کو ایک لاکھ حدیثیں بمع راویوں کے ناموں کے زبانی یادتھیں وہ فتح الباری شرح بخاری جلد نمبر ۶ میں تمام حدیثیں سامنے رکھ کر فیصلہ لکھتے ہیں:فَاِنَّ ظَاہِرَ الْاَحَادِیْثِ یَدُلُّ عَلٰی تَحْرِیْمِ الْاِسْبَالِ یعنی چاہے تکبر ہو یا نہ ہو ہرحال میں ٹخنہ چھپانا حرام ہے۔؎ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اﷲ علیہ حافظ الحدیث ہیں جنہیں ایک لاکھ حدیثیں مع اسناد کے زبانی یاد تھیں اور جنہوں نے بخاری شریف کی۱۴ جلدوں میں شرح لکھی ہے، ان سے بڑھ کر آج کوئی کیا حدیث بیان کرے ------------------------------