خزائن الحدیث |
|
چار وجہ سے ٹخنوں کا چھپانا حرام ہے: ۱) مِنْ جِھَۃِ التَّشَبُّہِ بِالنِّسَاءِ عورتوں سے مشابہت ہوتی ہے۔ ۲)مِنْ جِھَۃِ التَّلَوُّثِ بِالنَّجَاسَۃِ لٹکا ہوا پائجامہ نجاست سے ملوث ہوتا ہے۔ ۳)مِنْ جِھَۃِ التَّشَبُّہِ بِوَ ضْعِ الْمُتَکَبِّرِیْنَ متکبرین کی وضع سے مشابہ ہے۔ ۴) مِنْ جِھَۃِ الْاِسْرَافِ فضول خرچی ہے۔؎ اگر کوئی کہے کہ آدھے انچ سے کیا ہوتا ہے؟ تو اللہ کا قانون سارے عالم کے مسلمانوں کو سامنے رکھ کر ہے۔ اگر نوّے کروڑ مسلمان ہیں تو نوے کروڑ انچ ضایع ہو گیا۔ اس کا فٹ بناؤ، گز بناؤ، اندازہ ہو جائے گا کہ کتنا کپڑا ضایع ہوا۔ اور سن لو جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد ہوا تو صرف منافقین ازار لٹکانے لگے تھے، کسی صحابی کے بارے میں کوئی ثابت نہیں کرسکتا کہ ان کا پائجامہ سے ٹخنہ چھپا ہو۔ یہاں تک کہ ابن حجر عسقلانی رحمۃاللہ علیہ نے شرح بخاری میں لکھا ہے کہ ایک صحابی نے عرض کیا کہیَا رَسُوْلَ اللہِ ! اِنِّیْ حَمِشُ السَّاقَیْنِ میری پنڈلیاں سوکھ گئی ہیں، بیماری ہو گئی ہے، مجھے مستثنیٰ کر دیجیے کہ میں ٹخنہ چھپا لوں تاکہ میرا عیب چھپ جائے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:اے شخص! بیماری تو اللہ کی طرف سے ہے، نا فرمانی تیری طرف سے ہو گی اَمَا لَکَ فِیَّ أُسْوَۃٌ کیا میرے اندر تیرے لیے نمونہ نہیں ؟؎ کہ میری لنگی کتنی اونچی رہتی ہے۔ جو آدمی اسبالِ ازار کرتا ہے، ٹخنے چھپاتا ہے، اس پر چار عذاب ہوں گے: ۱)لَا یُکَلِّمُھُمُ اللہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن شفقت سے بات نہیں کریں گے۔ ۲) وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْھِمْ اللہ تعالیٰ رحمت کی نظر سے نہیں دیکھیں گے۔ ۳) وَ لَا یُزَکِّیْھِمْ ان کو توفیقِ اصلاح نہیں دیں گے۔ ۴) وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ دردناک عذاب ہوگا۔؎ مولانا خلیل احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیںاِنْ لَّمْ یَتُبْیہ عذاب جب ہو گا اگر توبہ نہ کرے اور اگر توبہ کر لی تو سب ختم، معافی ہوگئی۔ لہٰذا دوستو! ذرا اس کا خیال رکھو۔ آسمان ہی کی طرف نظر مت کرو، زمین کی ------------------------------