خزائن الحدیث |
|
جائز نہیں ہو گی بلکہ یہاں نسبت الی الماخذ ہے یعنی صاحبِ عظمت۔ اللہ تعالیٰ عظمت والے ہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ کے لیے لفظ متکبر کا ترجمہ ہمیشہ صاحبِ عظمت کیا جائے گا کیوں کہ بڑائی صرف اللہ ہی کے لیے خاص ہے سوائے اللہ کے کوئی بڑا نہیں ہے اور جو بندہ اپنے کو بڑا بنائے گا اللہ تعالیٰ اس کو گرا دیں گے۔ کبر جب دل میں ہوتا ہے تو اس کی چال، اس کی رفتار، اس کی گفتار، اس کی زندگی کے ہر شعبہ میں اس کا تکبر شامل ہوتا ہے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ متکبر انسان لوگوں کی نگاہوں میں ذلیل ہو جاتا ہے فَھُوَ فِیْ اَعْیُنِ النَّاسِ صَغِیْرٌ تمام دنیا کے انسانوں میں اللہ اس کو ہلکا چھوٹا اور حقیر کر دیتا ہے، لوگ ہر طرف اسے کہتے ہیں کہ بہت ہی نا لائق ہے، بڑا متکبر ہے، اینٹھ کے چلتا ہے، وَ فِیْ نَفْسِہٖ کَبِیْرٌ مگر اپنے دل میں وہ اپنے کو خوب بڑا سمجھتا ہے کہ میری عظمتوں سے لوگ واقف نہیں ہیں۔ میری عظمتوں کی لوگ قدر نہیں کرتے، میرے علم و عمل کو نہیں پہچانتے، اس قسم کی باتیں شیطان اس کے دل میں ڈال دیتا ہے، سمجھتا ہے کہ بس’’ ہم چنیں ما دیگرے نیست‘‘ مجھ جیسا کوئی دوسرا نہیں، ہمارے ایک دوست کہتے تھے کہ جوکہتا ہے کہ ہم چنیں ماد یگرے نیست وہ دراصل یہ دعویٰ کرتا ہے کہ’’ ہم چنیں ڈنگرے نیست ‘‘کہ مجھ جیسا کوئی ڈنگر یعنی جانور نہیں ہے۔ تو حضور سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ جو شخص اپنے کو بڑا سمجھتا ہے اللہ اس کو گرا دیتا ہے، پس وہ لوگوں کی نظروں میں ذلیل اور اپنے دل میں کبیر ہوتا ہے، یعنی اپنے دل میں وہ اپنے کو بڑا سمجھتا ہے لیکن ساری دنیا کی نظروں میں حقیر اور ذلیل ہو جاتا ہے، حَتّٰی لَھُوَ اَھْوَنُ عَلَیْھِمْ مِّنْ کَلْبٍ اَوْخِنْزِیْرٍ؎ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو لوگوں کی نظروں میں کتے اور سور سے بھی زیادہ ذلیل کر دیتا ہے، ایسی خطرناک بیماری ہے یہ تکبر، اس کو سوچئے کہ یہ تو سمجھ رہا ہے کہ میں بہت بڑا ہوں اور بڑی عزت والا ہوں، لیکن لوگوں کی نگاہوں میں کتے اور سور سے بھی زیادہ ذلیل ہے۔ اس لیے متکبر کے ساتھ تکبر صدقہ ہے، یعنی متکبر کے سامنے زیادہ تواضع اور خاکساری مت دکھائیے، دل میں تو اس کی تحقیر نہ ہوبلکہ اس وقت بھی دل میں اپنی ہی حقارت پیش نظر ہو لیکن بظاہر اس کا زیادہ اکرام نہ کیجیے، اگر اس کا زیادہ اکرام کیا جائے گا تو اس کا مرض تکبر اور بڑھ جائے گا۔ یہ بیماری بہت خطر ناک ہے اور اس کے علاج کے لیے خانقاہوں کی ضرورت ہے، بڑے بڑے علماء ------------------------------