خزائن الحدیث |
|
لوگوں کی نگاہوں میں حقیر ہوجاتا ہے اور اپنی نگاہوں میں بڑا ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ لوگوں کے نزدیک کتے اور خنزیر سے بھی زیادہ ذلیل ہوجاتاہے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے جس کو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے خطبات الاحکا م میں حضرت امام بیہقی رحمۃ اﷲ علیہ سے نقل فرمایا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ مَنْ تَوَاضَعَ لِلہِ جس نے اللہ کے لیے تواضع اختیار کی اور اپنے نفس کو مٹایارَفَعَہُ اللہُ اللہ تعالیٰ اس کو بلندی دیتا ہے فَھُوَ فِیْ نَفْسِہٖ صَغِیْرٌ پس وہ اپنے نفس میں حقیر ہوتا ہے، تواضع کی وجہ سے اپنے دل میں تو اپنے کو چھوٹا سمجھتا ہے، لیکن اس فنائیت کی برکت سے اللہ اس کو لوگوں کی نظر میں عظیم کر دیتا ہے، عزت دیتا ہے تمام مخلوق میں اس کی عظمت اور بڑائی ڈال دیتا ہے وَ فِیْ اَعْیُنِ النَّاسِ عَظِیْمٌاپنے نفس میں تو اپنے کو حقیر سمجھا مگر اس تواضع کا کیا انعام ملا؟ تمام لوگوں میں اس کو عظمت عطا ہوگئی، ساری دنیا کے انسانوں میں اللہ تعالیٰ اس کو عظمت دیتے ہیں۔ وَمَنْ تَکَبَّرَ وَضَعَہُ اللہُ اور جو اپنے کو بڑا سمجھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو گرا دیتے ہیں اور جس کو خدا گرائے اس کو کون اُٹھائے؟ہے کسی میں دم کہ جس کو خدا گرا دے پوری کائنات میں اس کو کوئی اُٹھا دے، جس کو اللہ ذلیل کرے اس کو پوری کائنات میں کوئی عزت نہیں دے سکتا کیوں کہ جو بندہ اپنے کو بڑا سمجھتا ہے حقیقت میں وہ بڑا نہیں ہے،جس کا مادّۂ تخلیق باپ کی منی اور ماں کا حیض ہو وہ کیسے بڑا ہو سکتا ہے؟ اس لیے وَمَنْ تَکَبَّرَ فرمایا۔ تکبر بابِ تفعُّل سے ہے جس میں خاصیت تکلف کی ہوتی ہے یعنی وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے بڑا نہیں ہے، بہ تکلف بڑا بن رہا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ اس کو گرا دیتے ہیں، ذلیل کر دیتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے جب یہ صفت آتی ہے تو وہاں اس کے یہ معنیٰ نہیں ہوں گے۔ قرآن پاک میں ہے اَلْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ، عَزِیْزٌکے معنیٰ طاقت والا، جَبَّارْکے معنیٰ ظالم کے نہیں ہیں جیسا کہ عام لوگ سمجھتے ہیں کہ فلاں بڑا ظالم، جابر ہے، جَبَّارْکے معنیٰ ہیں ٹوٹی ہڈی کو جوڑنے والا اور اپنے بندوں کی بگڑی بنانے والا۔ اَلَّذِیْ یُصْلِحُ اَحْوَالَ خَلْقِہٖ بِقُدْرَتِہِ الْقَاھِرَۃِ جو اپنے بندوں کی ہر حالت کو بنانے پر قادر ہو۔ انتہائی خراب حالت کسی بندہ کی ہو تو اس کی منتہائے تباہی اور منتہائے تخریب کو اللہ تعالیٰ کے ارادۂ تعمیر کا نقطۂ آغاز کافی ہے، بس وہ ارادہ فرمالیں کہ مجھے اپنے اس بندہ کو سنوارنا ہے وہ اسی وقت اللہ والا بن جائے گا۔ علامہ آلوسی تفسیر روح المعانی میں تحریر فرماتے ہیں کہ اس آیتِ مبارکہ میں متکبر کے معنیٰ صاحبِ عظمت کے ہیں اگرچہ یہ بابِ تفعّل ہے لیکن تکلف کی خاصیت جو کہ عموماً بابِ تفعّل کا خاصہ ہے یہاں ہر گز