خزائن الحدیث |
|
آپ کے فیصلوں کو آپ پر بالادستی حاصل نہیں لہٰذا جو فیصلے میرے حق میں برے ہیں ان کو اچھے فیصلوں سے تبدیل فرما دیجیے، کیوں کہ آپ کا کوئی فیصلہ بُرا نہیں کہ وہ تو عین عدل و انصاف اور عینِ حکمت ہے لیکن میری شامتِ عمل سے، کیوں کہ وہ میرے حق میں برا ہے اس لیے اس کو بدل دیجیے تاکہ میں تباہی و ہلاکت سے بچ جاؤں، جیسے عادل جج کسی مجرم کو پھانسی کا حکم سناتا ہے تو فی نفسہٖ یہ فیصلہ بُرا نہیں کیوں کہ عدل و انصاف پر مبنی ہے، لیکن جس کے خلاف یہ فیصلہ اس کے جرائم کی وجہ سے ہوا ہے اس مجرم کے لیے برا ہے، اسی لیے حضرت حکیم الامت تھانوی نے فرمایا کہ یہاں سوء کی نسبت قاضی کی طرف نہیں مقضی کی طرف ہے یعنی برائی کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں ہے، بلکہ جس کے خلاف وہ فیصلہ ہے اس کی طرف ہے، فیصلہ برا نہیں لیکن جس کے خلاف ہے اس کے لیے برا ہے اور جس طرح جب مجرم عدلیہ سے مایوس ہو جاتا ہے تو بادشاہِ وقت یا صدرِ مملکت سے رحم کی اپیل کرتا ہے، لہٰذا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اُمت کو یہ دعا تعلیم فرما دی کہ سوئے قضا سے حفاظت مانگ کر اللہ تعالیٰ سے اپنی تقدیریں بدلو الو کہ عدل کے اعتبار سے تو ہم مستحقِ سزا ہیں لیکن آپ سے آپ کے فضل اور آپ کے مراحمِ خسروانہ سے رحم کی بھیک مانگتے ہیں کہ ہماری بُری تقدیر کو محض اپنے رحمِ شاہی کے صدقہ میں اچھی تقدیر سے بدل دیجیے۔ اہل اللہ کی رفاقت اور ان سےاللہ تعالیٰ کے لیے محبت سوء قضا سے حفاظت کا ذریعہ ہے، کیوں کہ وَامْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّھَا الْمُجْرِمُوْنَ؎ کا خطاب ان ہی کو سننا پڑے گا جو قلباً و قالباً و اعتقاداً عباد صالحین سے نہ ہوں گے، وہی مجرمین ہوں گے۔ جب حضرت یوسف علیہ السلاماَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ کی اللہ تعالیٰ سے درخواست کررہے ہیں تو پھر غیر نبی کا کیا منہ ہے جو الحاق بالصالحین کی اہمیت کا منکر ہو۔ اہل اللہ کی رفاقت سوء قضا سے حفاظت کا ذریعہ ہے، اس کی دلیل بخاری شریف کی حدیث ہے کہ تین باتیں ایسی ہیں کہ جس کے اندر ہوں گی وہ ایمان کی حلاوت پا لے گا جن میں سے ایک یہ ہے کہ جو صرف اللہ کے لیے کسی بندہ سے محبت کرے اس کو حلاوتِ ایمانی عطا ہو جائے گی اور حضرت ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ مرقاۃ میں نقل کرتے ہیں کہ ایمان کی حلاوت جس قلب میں داخل ہوتی ہے پھر کبھی نہیں نکلتی اور اس میں حسنِ خاتمہ کی بشارت ہے کیوں کہ جب ایمان قلب سے نکلے گا ہی نہیں تو خاتمہ ایمان ہی پر ہو گا۔ لہٰذا اہل اللہ سے محبت قلب میں حلاوتِ ایمانی پانے کا ذریعہ ہے اور حلاوتِ ایمانی کا قلب میں داخل ہونا سوء خاتمہ سے حفاظت کا ذریعہ ہے، اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنَامِنْہُ ۔ ------------------------------