خزائن الحدیث |
|
اگر آپ نے اس عریانی کے ماحول میں آنکھوں کی حفاظت کر لی تو ایسا قوی نور دل میں پیدا ہو گا، جو اُڑا کر عرش والے مولیٰ تک ان شاء اللہ پہنچا دے گا۔ اور اگر حفاظت نہ کی تو جو نور حاصل ہے وہ بھی ختم ہو جائے گا۔ تو بتائیے! کیا فائدہ ہوا؟ وطن سے اتنی دور آئے، گھر بار چھوڑا، کاروبار چھوڑا، سفر کی مشقت اٹھائی اور اللہ تعالیٰ کی لعنت خرید لی، کیوں کہ سرورِ عالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے لَعَنَ اللہُ النَّاظِرَ وَ الْمَنْظُوْرَ اِلَیْہِ؎ یہ کوئی معمولی گناہ نہیں ہے، آنکھوں کا زنا ہے ۔ بخاری شریف کی حدیث ہے:زِنَا الْعَیْنِ النَّظَرُ؎ اور لعنت کے کیا معنیٰ ہیں؟ اللہ کی رحمت سے دوری ۔ جو عورتیں ننگی پھر رہی ہیں اور اپنے کو دکھا رہی ہیں ان پر بھی لعنت برس رہی ہے اور جو ان کو دیکھ رہے ہیں ان پر بھی لعنت برس رہی ہے۔ لہٰذا حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی بد دعا سے بچو۔ پیروں کی بد دعا سے ڈرنے والو! رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم، جن کی غلامی کے صدقہ میں پیری ملتی ہے، ان کی بد دعا سے کتنا ڈرنا چاہیے۔ آپ نے بد دعا فرمائی ہے لَعَنَ اللہُ النَّاظِرَ وَ الْمَنْظُوْرَ اِلَیْہِ اے اللہ! اپنی رحمت سے ان سب کو محروم کر دے جو آپ کو چھوڑ کر غیروں پر مررہے ہیں، جو غیروں کو دیکھ رہے ہیں اور خود کو غیروں کو دکھا رہے ہیں۔ یہ بے وفا ہیں اور نالائق غلام ہیں جو آپ جیسے محسن اور پالنے والے کو چھوڑ کر عاجز اور بے وفا غلاموں کے غلام بنے ہوئے ہیں۔ حدیثِ پاک میں ہے: اَلنِّسَاءُ حَبَائِلُ الشَّیْطٰنِ؎ عورتیں شیطان کا جال ہیں جن سے وہ گناہوں میں پھنسا دیتا ہے۔ اِس زمانہ میں شیطان نے عورتوں کو بے پردہ ------------------------------