خزائن الحدیث |
|
مَنْ کَظَمَ غَیْظًا وَّہُوَ قَادِرٌ عَلٰی اَنْ یُّنْفِذَہٗ دَعَاہُ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی رُءُوْسِ الْخَلَائِقِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی یُخَیِّرَہُ اللہُ مِنَ الْحُوْرِ الْعِیْنِ مَا شَاءَ؎ جس شخص نے غصہ کو ضبط کر لیا اورحالاں کہ وہ اس کے نافذ کرنے پر قادر تھا، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو تمام مخلوق کے سامنے بلائیں گے اور اختیار دیں گے کہ جس حور کو چاہے اپنی پسند سے انتخاب کرلے۔ غصہ ضبط کرنے کے بارے میں ایک اور حدیث ہے: لِیَقُمْ مَنْ کَانَ لَہٗ عَلَی اللہِ تَعَالٰی اَجْرٌ فَلَا یَقُوْمُ اِلَّا اِنْسَانٌ عَفَا؎ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ وہ شخص کھڑا ہو جائے جس کا میرے اوپر کوئی حق ہو،پس کوئی شخص کھڑا نہیں ہو گا، مگر وہ جس نے دنیا میں کسی کی خطاؤں کو معاف کیا ہو گا۔ جنہوں نے یہ دولت کمائی ہو گی اور معاف کرنے والا عمل کیا ہو گا، وہ اس دن اللہ تعالیٰ سے اپنا انعام لینے کے لیے کھڑے ہو جائیں گے۔ علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ ایک حدیث نقل فرماتے ہیں کہ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص یہ بات پسند کرے کہ جنت میں اس کے لیے اونچے محل بنائے جائیں اور اس کے درجات بھی بلند ہو جائیں، اس کو چاہیے کہ جو شخص اس پر ظلم کرے اس کو معاف کر دے اور جو اس کو محروم رکھے اس کو عطا کر دے اور جو اس سے قطع رحمی کرے اس کے ساتھ صلہ رحمی کرے۔ بعضے خون کے رشتے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے ساتھ لاکھ نیکیاں کرتے رہو، وہ کبھی نیکی کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ان کے لیے حکم ہے: صِلْ مَنْ قَطَعَکَ؎ وہ تو قطع رحمی کریں مگر آپ ان سے جُڑے ------------------------------