خزائن الحدیث |
|
اللہ تعالیٰ کے نزدیک دو قطروں سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں: ایک آنسو کا وہ قطرہ جو اللہ کے خوف سے نکلا ہو اور ایک خون کا وہ قطرہ جو اللہ کے راستے میں بہا ہو۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے موسلادھار برسنے والی بارش کی طرح رونے والی آنکھیں مانگی ہیں: اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِیْ عَیْنَیْنِ ھَطَّالَتَیْنِ تَسْقِیَانِ الْقَلْبَ بِذُرُوْفِ الدُّمُوْعِ مِنْ خَشْیَتِکَ قَبْلَ اَنْ تَکُوْنَ الدُّمُوْعُ دَمًا وَّ الْاَضْرَاسُ جَمْرًا اے اللہ! مجھے ایسی آنکھیں عطا فرما جو موسلادھار اَبر کی طرح برسنے والی ہوں تَسْقِیَانِ الْقَلْبَ جو آنسوؤں سے دل کو سیراب کر دیں قبل اس کے کہ دوزخ میں آنسو خون اور داڑھیں انگارے بن جائیں۔ مناجاتِ مقبول میں جو روایت منقول ہے اس میں تَشْفِیَانِ الْقَلْبَ کے بجائے تَسْقِیَانِ الْقَلْبَہے۔ غَیْمٌ ھَاطِلٌ کے معنیٰ موسلا دھار برسنے والا بادل یعنی موسلا دھار بارش اور ھَطَّالَۃٌ مبالغہ کا صیغہ ہے جو یہاں صفت ہے عینین کی اور عینین عربی قاعدہ سے مؤنث ہے،اس لیے اس کی صفت ھَطَّالَۃٌ بھی مؤنث استعمال فرمائی گئی۔ سرورِ عالم سید الانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بارگاہِ حق میں عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ! آپ مجھے ایسی آنکھیں عطا فرمائیے جو ھَاطِلَۃٌ نہیں ھَطَّالَۃٌ ہوں ھَاطِلَۃٌمیں بھی موسلا دھار بارش جیسے گر یہ کا مفہوم تھا لیکن نبوت کی جانِ عاشق نے اس پر قناعت نہیں فرمائی بلکہ ایسی آنکھیں مانگیں جوھَطَّالَۃٌ ہوں یعنی موسلا دھار برسنے والے ابر سے بھی زیادہ رونے والی ہوں۔ تو ھَطَّالَتَیْنِ، عَیْنَیْن کی صفتِ اولیٰ ہے یعنی اللہ والی آنکھوں کی پہلی صفت حضور صلی اللہ علیہوسلم نے ھَطَّالَتَیْنِ فرمائی کہ وہ موسلا دھار بارش سے بھی زیادہ آنسو برسانے والی ہیں۔ اس کے بعد سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آنکھوں کی دوسری صفت اللہ تعالیٰ سے مانگ رہے ہیں کہ تَشْفِیَانِ الْقَلْبَ بِذُرُوْفِ الدُّمُوْعِ یا تَسْقِیَانِ الْقَلْبَ بِذُرُوْفِ الدَّمْعِوہ آنکھیں ایسی ہوں جو بہتے ہوئے آنسوؤں سے دل کو شفا دینے والی ہوں یا بہتے ہوئے آنسوؤں سے دل کو سیراب کر دیں۔ صرف وہی آنسو دل کو سیراب کرتے ہیں جو اللہ کی محبت یا اللہ کے خوف سے بہتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ ہر رونے والی آنکھ دل کو سیراب نہیں کرتی، جو آنسو غیر اللہ کے لیے نکلتے ہیں وہ دل کو سیراب نہیں کرتے بلکہ دل کا ستیا ناس کر دیتے ہیں۔ کسی عربی شاعر نے کہا ہے کہ جو آنکھیں آپ کے لیے بیدار نہ ہوں، آپ کے غیروں کے لیے جاگ رہی ہوں وہ آنکھیں اور ان کی بیداری بے کار اور تضییعِ اوقات ہے اور جو آنسو آپ کی جدائی کے غم کے بجائے مرنے والوں کے لیے بہہ رہے ہوں وہ باطل ہیں۔