خزائن الحدیث |
|
نوے سال تک میں نے تمہیں پکارا اور تم نے کوئی جواب نہیں دیا اور آج غلطی سے مسلمانوں کے خدا کا نام نکل گیا تو فوراً جواب آگیا کہ لَبَّیْکْ میرے بندے! میں موجود ہوں۔ سبحان اللہ! تو عفو کرنے میں آپ بے حد کریم ہیں کہ نوے برس کے کافر کو بھی نہیں بھولتے اور ایک لمحہ میں معاف فرما کر اپنا پیارا بنا لیتے ہیں۔ اور آپ حَیٌّ لَّمْ یَزَلْ ہیں یعنی زندہ حقیقی ہیں کہ ہمیشہ سے زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے اور آپ کی حیات میں کبھی زوال نہیں آ سکتا بلکہ ہر وقت آپ کی ایک نئی شان ہے: کُلَّ یَوۡمٍ ہُوَ فِیۡ شَاۡنٍ ؎ علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ روح المعانی میں اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہاں یومسے مراد وقت ہے، دن مراد نہیں ہے اَیْ فِیْ کُلِّ وَقْتٍ مِّنَ الْاَوْقَاتِ وَفِیْ کُلِّ لَحْظَۃٍمِّنَ اللَّحْظَاتِ وَفِیْ کُلِّ لَمْحَۃٍ مِّنَ اللَّمْحَاتِ ؎ یعنی ہر وقت اور ہر لحظہ اور ہر لمحہ آپ کی ایک نئی شان ہے۔ پس چوں کہ آپ زندہ حقیقی ہیں اس لیے آپ ہی محبوبِ حقیقی ہیں۔ آپ کے علاوہ کوئی اس قابل نہیں کہ اس کو محبوب بنایا جائے کیوں کہ اگر آپ کے علاوہ کسی اور کو دل دیا تو ایک دن معلوم ہوگا کہ وہ مر گیا اور اس کا جنازہ دفن ہو رہا ہے اب کہاں جاؤ گے؟ اور کس کو دل کا سہارا بناؤ گے؟ کیوں کہ جس کو سہارا بنایا تھا وہ تو مر گیا۔ اب کیا اس لاش سے چمٹو گے اور اگر چمٹو گے تو تین دن کے بعد لاش سڑ جائے گی اور مردہ جسم پھول کر پھٹ جائے گا پھر سب سے پہلے تم ہی اسے دفن کرو گے اور بد بو سے ناک بند کر کے وہاں سے بھاگو گے، لہٰذا کہاں مرنے والوں پر مر رہے ہو۔ مرنے والوں سے عشق نہ کرو کہ یہ پائیدار نہیں ہوتا، عشق اس زندہ حقیقی سے کرو جو ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا، جس کو کبھی موت نہیں آئے گی، جو موت و زوال و فنا سے پاک ہے اس سے محبت کرو تو تم بھی زندہ جاوید ہوجاؤ گے۔ جنت میں وہ تمہیں حیاتِ جاودانی عطا کرے گا۔ وہ ایسا زندہ حقیقی ہے جو ازل سے ہے اور ابدتک رہے گا اورحَیَاۃُ کُلِّ شَیْءٍ بِۢہٖ مُؤَبَّدًا ہر شے کی حیات اسی سے قائم ہے اور وہ قیومبھی ہے یعنی قَآئِمٌ بِۢذَاتِہٖ وَ یُقَوِّمُ غَیْرَہٗ بِقُدْرَتِہِ الْقَاہِرَۃِ؎اپنی ذات سے قائم ہے اور اپنی قدرتِ قاہرہ سے دوسروں کو قائم کیے ہوئے ہے اور کیوں کہ اس کی ہر وقت ایک نئی شان ہے لہٰذا اس کے عاشق بھی ہر وقت ایک نئی شان میں رہتے ہیں، ہر لمحہ ان کو ایک نئی حیات عطا ہوتی ہے جس کا دنیوی عشّاق تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ------------------------------