خزائن الحدیث |
|
مساوات اور برابری لازم آتی ہے جو جائز نہیں۔ پس معیت سے مراد یہ ہے کہ ہر شخص کے لیے ایک دوسرے کی ملاقات اور دیدار ہر وقت ممکن ہو سکے گا۔ (تفسیر کبیر: جلد خامس، جزء عاشر، صفحہ ۱۷۶) علامہ ابن کثیر حافظ عماد الدین دمشقی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر: ذٰلِکَ الۡفَضۡلُ مِنَ اللہِ ؕ وَ کَفٰی بِاللہِ عَلِیۡمًا؎ علامہ ابن کثیرد مشقی اپنی تفسیر ’’ابن کثیر‘‘ میں مذکورہ آیت کی تفسیر فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: اَیْ مِنْ عِنْدِ اللہِ بِرَحْمَتِہٖ، ھُوَ الَّذِیْ اَھَّلَھُمْ لِذٰلِکَ لَا بِاَعْمَالِھِمْ ھُوَ عَلِیْمٌ بِمَنْ یَّسْتَحِقُّ الْھِدَایَۃَ وَالتَّوْفِیْقَ؎ یہ نعمتِ معیت محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہو گا۔ یہ نعمت اعمال کے بدلے میں نہ ملے گی اور وہ علیم ہیں کہ کون اس ہدایت اور توفیق کا مستحق ہے۔ از علامہ محمود نسفی صاحبِ تفسیر خازن:اس معیت کے بارے میں صاحبِ تفسیرِ خازن نے روایت ذکر فرمائی ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سوال کیا حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے کہ قیامت کب آوے گی؟ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کی کیا تیاری کی ہے؟ عرض کیا کہ کچھ تیاری نہیں کی اِلَّا اَنِّیْ اُحِبُّ اللہَ وَ رَسُوْلَہٗ مگر میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اَنْتَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ تم اسی کے ساتھ ہوگے جس کے ساتھ محبت ہے۔ حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ فَمَا فَرِحْنَا بِشَیْءٍ اَشَدَّ فَرْحًا بِۢقَوْلِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْتَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ ایسی خوشی ہم لوگوں کو کبھی نہیں ہوئی جیسا کہ اس ارشاد سے ہوئی، اس کے بعد حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے اور حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے محبت کرتا ہوں اَرْجُوْ اَنْ اَکُوْنَ مَعَھُمْ بِحُبِّیْ اِیَّاھُمْ وَاِنْ لَّمْ اَعْمَلْ بِاَعْمَالِھِمْ امید ہے کہ میں ان سب حضرات کے ساتھ ہوں گا بہ سبب ان کی محبت کے، اگرچہ ہمارے اعمال اس درجہ کے نہیں۔ ؎ ------------------------------