حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا بچپن |
|
ان سترہ صفات کا تفصیلی تذکرہ آپﷺ کے عہد شباب پر لکھی جانے والی کتاب ’’فجر ہونے تک‘‘ میں دیکھئے ملاحظہ: قارئین! اسی جملے پر اس کتاب کو مکمل کیا جاتا ہے، اگر بغور مطالعہ کیا جائے اس کتاب کا اور دیکھا جائے قرآنی اخلاق کی فہرست کو تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ چالیس سال بعد نزولِ قرآن نے جن محاسنِ اخلاقیات کا درس انسانیت کو دینا تھا، نبی اکرمﷺ اپنے بچپن، لڑکپن اور عہد شباب میں ان اخلاق کا چلتا پھرتا نمونہ تھے اور جو ستارہ ۱۲ ربیع الاوّل کو طلوع ہو کر چمکا پھر چہل سالہ منور رات کے بعد اس نے صبح کا منہ دیکھا اور فجر ہو گئی تو اس ستارے کا طلوع دراصل اخلاقِ قرآنیہ کا طلوع تھا اور فجر کا ظہور درحقیقت قرآنی اخلاق کی ضیا باری تھی، جس سے آج تک روشنی ہے اور تاقیامت رہے گی۔ بلکہ جنت الفردوس کے باسیوں کو بھی سب سے بڑا تحفہ قرآنی اخلاق کا ہی دیا جائے گا۔ جن کا نمونہ اللہ نے ایک ہی بنایا ہے جسے’’ حضرت محمدﷺ‘‘ کہا جاتا ہے۔ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ الْحَبِیْبِ وَعَلیٰ اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَازْوَاجِہٖ وَاَھْل بیتِہٖ اَجْمَعِیْن (۱)منتظرِ شفاعتِ حبیبﷺ محمد اسلم زاہد لاہور ---------------------- (۱) آج جمعرات، بعد نمازِ ظہر ۲۶ جمادی الثانی ۱۴۳۶ھ، ۱۶؍ اپریل ۲۰۱۵ مسودے کی نظرِثانی سے فراغت ملی۔