حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا بچپن |
|
صدر کا واقعہ بھی ہو گیا، اب فیصلہ کر لیا کہ آمنہ کی امانت واپس کی جائے۔قریۃ السَّعدیہ کے چند خوبصورت مناظر: بنو سعد نے پہلے دو سال حضور ﷺکی رحمتیں لوٹیں اب حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کو ۲۴ مہینے مزید مل گئے تھے لیکن شقِّ صدر جیسے واقعات کی وجہ سے وہ متفکر ہو گئی تھیں اور ادھر مکہ کی فضا ان دو ڈھائی سالوں میں وبائی اثرات سے پاک ہو گئی تھی،اس لیے آمنہ کے لعل کو مکہ کی سرزمین پہ پہنچانے کا عزم کرلیا گیا۔ حضرت محمد ﷺ اس بستی کے بچوں کے ساتھ اپنے نرم و گداز ہاتھوں سے تیر چلاتے تو نشانے پہ جا لگتا، سرمگیں آنکھوں سے کبھی آسمان، کبھی زمین کو دیکھتے اور کبھی سورج، چاند ستاروں اور جمادات و نباتات اور مخلوقِ خدا میں غور و فکر کرتے تو پاک زبان سے کہتے: سُبحان اللہ ! وہ بھاگتے تو کائنات سمٹنے لگتی، چلتے تو زمین کا ذرّہ ذرّہ مسحور ہو جاتا، بولتے تو فصاحت و بلاغت کو نئے الفاظ ملتے، حارث رضی اللہ عنہ و حلیمہ رضی اللہ عنہا کی یہ کٹیا مرکزِ تجلیات تھی، ان کا صحن جہاں عبد اللہ ، انیسہ ضمرہ اور شیماء رضی اللہ عنہا کے قہقہوں سے رشکِ جہاں تھا، وہاں محمدِ مجتبیٰﷺ بھی بچوں کی محفل میں مسکراتے تو آبدار دانتوں سے ایک نور نکلتا جو سب کو اپنی طرف متوجہ کر لیتا۔ پہاڑوں کے درمیان اس چھوٹے سے خطہ میں چاندنی راتوں میں بنوسعد کے بچے کھیلنے کے لیے نکلتے، احمد مصطفیﷺ حلیمہ رضی اللہ عنہا سے کہتے: امی! میں نے بھی کھیلنا ہے۔ حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتیں : عبد اللہ و شیماء رضی اللہ عنہا کو ساتھ لے جائو! محمدﷺ اکیلے نہ جانا! اور شیماء! میرے پیارے بیٹے کا خیال رکھنا کہیں اسے کوئی لے نہ جائے، یہ اکیلا نہ رہ جائے۔ یہ سنہری ایام اور یہ خوشیوں بھری راتیں بہت جلد ختم ہو گئیں اور حلیمہ رضی اللہ عنہا ایک بار پھر اپنے جگر پارہ کو لے کر مکہ کی طرف چل دیں ۔ ہمارے نبیﷺ پانچ سال عمر میں جب اس قریہ (بستی) سے جدا ہوئے تو یہاں کے مکینوں ، بچوں اور ان بیماروں کے دلوں پہ کیا بیتی جن کے مسیحا ننھے محمدﷺ تھے، جن کی وجہ سے یہاں بہاریں آ گئیں ، روزی میں اضافہ ہوا، بلائیں ٹل گئیں اور ہر روز روزِ عید بن گیا تھا، اور ہر شب شبِ قدر۔مکہ واپسی اور روپوشی: لفظوں میں اس منظر کو تصویر کا رنگ کوئی دے تو کیسے دے؟ کہ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کی سواری جب بستی سے چلی تو بستی والوں نے کس طرح بھیگی آنکھوں ، زخمی دل اور بوجھل دماغ کے ساتھ ان کی سواری اور سواروں کو الوداع کہا؟ تاریخ میں یہ واقعہ تو محفوظ رہ گیا کہ دایہ حلیمہ رضی اللہ عنہا اونچے اونچے پہاڑوں ، صحرا اور ریتلے ٹیلوں اور چھوٹی چھوٹی جھاڑیوں کے درمیان سے گزرنے والے پرپیچ راستوں سے گزر کر ننھے محمدﷺ کو مکہ مکرمہ تک لے آئی تو یہاں رات ہو