حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا بچپن |
|
یہ بچہ سب سے وزنی ہے: اس کے بعد تیسرا آدمی اُٹھا، اس نے پہلے دونوں سے کہا: تم دونوں نے وہ کام پورا کر لیا، جو اللہ نے تمہیں حکم دیا تھا، پھر وہ میرے قریب آیا، اس نے اپنا ہاتھ میرے سینے کے نیچے وہاں تک پھیرا جہاں تک چیرا گیا تھا، چنانچہ وہ درست ہو گیا، پھر فرشتے نے کہا: اس کو تولو، اس کی اُمت کے دس افراد کے ساتھ! انہوں نے مجھے تولا، تو میں دس افراد سے زیادہ بھاری تھا۔ پھر اس نے کہا ’’اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو‘‘ اگراس کے ساتھ تم اس کی پوری اُمت کوتولو گے تو بھی یہ ان سب سے وزنی ہوگا، پھر اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر نرمی سے اُٹھا کر کھڑا کر دیا۔ پھر انہوں نے مجھے اسی جگہ کھڑا چھوڑا اور اُوپر کواڑنا شروع ہوئے اورمیرے دیکھتے ہی دیکھتے آسمان میں داخل ہو گئے اور میں مسلسل ان کی طرف دیکھتا رہا اور دیکھتا رہوں گا اے امی! اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو ان کے (آسمان میں ) داخل ہونے کی جگہ بھی دکھا سکتا ہوں کہ وہ کہاں سے آسمان میں چھپ گئے؟(۱)آپ ﷺ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی: حضور محبوبِ دو عالمﷺکو یہ سب حالات یاد تھے، آپﷺ نے فرمایا: جب میری رضاعی ماں مجھے دیکھنے کے لیے چراگاہ میں پہنچیں اور ان کی نظر دور سے مجھ پر پڑی تو کہنے لگیں : ہائے بے چارہ! فرشتوں نے یہ سنا تو مجھے سینے سے لگایا، پیار کیا اور کہا: خوش قسمتی ہے کہ آپﷺ (دنیاوی لحاظ سے) بے چاروں میں سے ہیں (بے چارگی اور مسکینی پر اللہ کی رحمت برستی ہے)۔ پھر میری ماں (حلیمہ رضی اللہ عنہا نے آگے بڑھتے ہوئے) کہا: ہائے میرا بچہ کیسا اکیلا رہ گیا! فرشتوں نے کہا: آپﷺ اکیلوں میں (بظاہر نظر آتے ہیں ، یہ کوئی کمزوری اور نقص کی بات نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو خوبی ہے کہ) اللہ ، اس کے فرشتے اور جملہ مومنین آپﷺ کے ------------------------- (۱) دلائل النبوۃ للبیھقی: ۱/۱۴۱، الخصائص الکبریٰ: ۱/۹۴