حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا بچپن |
|
عہدوں سے نہیں بنتیں بلکہ کردار، اخلاق، جہدِ مسلسل، صداقت اور امانت کے ساتھ ساتھ صبر و استقامت سے بنتی ہیں ۔ اس نظریہ کی صداقت پر مثالوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اہل ہنر جانتے ہیں : حضرت حسن بصری رحمہ اللہ غلام اور مملوک تھے،(اپنی محنت اور لیاقت سے) زمانے کے امام بن گئے اور عند اللہ و عند الناس عزت پائی۔ حضرت امام مالک رحمہ اللہ کی پرورش داغِ یتیمی کے ساتھ ہوئی۔ وہ عالم مدینہ اور رہبر انسانیت مانے گئے۔ امام شافعی رحمہ اللہ سایۂ پدری سے محروم ہوئے۔ ان کی ماں غزہ (فلسطین) سے ان کو لے کر چلی۔ دونوں ماں بیٹا ایک دن کھاتے اور ایک دن بھوکے رہتے تھے، اس حال میں استادوں کے پاس پہنچے، اس محتاجی میں وہ ایسے امام بنے کہ ان کی شان کے بیان کے لیے اشارے ہوئے اور وہ مثالی اشخاص کی صفوں میں آئے۔ (وہ اُمت محمدیہﷺ میں صحابہ رحمہم اللہ کے بعد چار بڑے علماء میں شمار ہوتے ہیں ) اور یہ رہے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ و امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور حضرت صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ ان میں سے کسی کے متعلق بھی یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ زمانے کی ٹھوکریں ان کو اُبھرنے دیں گی، یہ تاریخِ اسلامی کے صفحات کی شہ سرخیاں بنیں گے۔ان سب کے بچپن کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ نہ معلوم کتنی بار وہ مر کر زندہ ہوئے اور انسانوں کی بے رحم نگاہوں نے انھیں گھور کر دیکھا لیکن کوئی آیا اور انہیں سیدنا محمد کریمﷺ کا بچپن سکھا گیا، جوان ہوئے تو شبابِ رسولﷺ سے سبق سیکھا تو عبقریت ان کے قدم چومنے لگی، رحمت ان کے لیے سائبان بن گئی۔پُر اعتمادی، محنت، تجارت، خودداری سیدنا محمد کریمﷺ عمر کے ہر حصے میں طبعی طور پر ہمیشہ مکمل پراعتماد نظر آئے۔ آپﷺ کی فطری عادت یہ رہی کہ اپنے کام خود کرتے کسی پہ بوجھ نہ بنتے تھے۔ اس سوچ کے حامل افراد زندگی کے ہر شعبے میں اپنے ہم عصروں سے آگے نظر آتے ہیں ۔ ابھی آپﷺ کا بچپن تھا، تین سال کے لگ بھگ عمر ہو گی لیکن ماشاء اللہ دیکھنے والے یہی سمجھتے تھے کہ آپﷺ کوئی پانچ چھ سال کے ہوں گے۔ ایک دن آپﷺ نے اماں حلیمہ رضی اللہ عنہا سے ایسے سوالات کیے کہ رضاعی ماں بھی حیران رہ گئیں اور انھیں آپﷺ کی بات ماننا پڑی۔ حضرت محمدﷺ : اماں جی!