حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا بچپن |
|
عالمہ فاضلہ خاتون فاطمہ بنتِ مرہ بھی ان سے تعلق کی خواہاں ہوئی، حضرت عبد اللہ نے جواب دیا: حرام کاری سے تو مر جانا اچھا ہے، شریف آدمی اپنے دین اور آبرو کی حفاظت کرتا ہے۔ فاطمہ نے جب یہ صاف جواب سنا تو کہنے لگی: عبد اللہ ! میں بدنیت نہیں مجھے آپ کے چہرے پہ نورِ نبوت جھلکتا محسوس ہو رہا ہے۔ بعض نے اس کا نام لیلہ عدویہ لکھا ہے۔(۱)حضرت عبد اللہ کا نکاح: عبد اللہ دینِ ابراہیمی(علیہ السلام) کے پابند اور اسلامی اقدار کا نمونہ تھے۔ ان کی کوکھ میں حضرت محمدﷺ کا نور تھا، ان سے اس عورت نے یہ نور لینا چاہا تھا، جو کتبِ سابقہ کی عالمہ تھی، لیکن وھب کی بیٹی آمنہ کی قسمت وہ کیسے چھین سکتی؟ ادھر ان کے والد عبدالمطلب بھی موحد و ابراہیمی تھے۔ حضورﷺ فرمایا کرتے تھے: میں پاک مردوں کے صلب سے پاک عورتوں کے رحموں میں منتقل ہوتا رہا۔(۲) اب دیکھنا ہے کہ یہ دو پاک سلسلے منجانب اللہ کیسے جمع ہو گئے کہ آنے والے نبی کے والد بھی پاک اور والدہ بھی پاک۔ بنو زہرہ کے سردار کی بیٹی مکہ کے سردار و مجاورِ حرم کے پوتے کے عقد میں آئی تو کیسے؟ اس سوال کا جواب ہمیں کتبِ سماویہ کی ان بشارتوں سے ملتا ہے جو یمن میں رہنے والے اس عالم نے حضرت عبدالمطلب کو سنائیں تھیں جو زبور کی تلاوت کر رہا تھا، اس نے جب حضورﷺ کے دادا کو دیکھا تو کہا: ’’میں نے تمہارے اندر ایسی جسمانی علامات دیکھی ہیں جن میں مجھے نبوت کا نور اور سلطنت نظر آ رہی ہے، تم زہرہ قبیلہ میں رشتہ داری کر لو تاکہ دو’’ عبدِ منافوں ‘‘ کی نسبتیں جمع ہو جائیں ۔‘‘(۳) -------------------------- (۱) الطبقات الکبریٰ: ۱/۷۷، سیرۃ ابن کثیر: ۱/۱۷۶، تاریخ الخمیس: ۱/۱۸۴، عیون الاثر: ۱/۲۹ (۲) المواھب اللدنیہ: ۱/۱۰۵، شرح الزرقانی: ۱/۳۲۷، تاریخ الخمیس: ۱/۵۶، بہجۃ المحافل: ۱/۴۴، سبل الہدیٰ: ۱/۲۵۶ (۳) الروض الانف: ۲/۸۸، السیرۃ الحلبیہ: ۱/۶۶