حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا بچپن |
|
پھر دنیا نے یہ منظر بھی دیکھا کہ اسی مکہ میں پیدا ہونے والے اللہ کے نبیﷺ نے اعلانِ نبوت سے پہلے اپنا بچپن اور جوانی ان تمام برائیوں کے بالمقابل نیکیوں کے ساتھ گزاری آپﷺ نے اس چہل سالہ عمر میں نہ کسی پہ ظلم کیا، نہ شرک کے قریب گئے۔ صلہ رحمی، غریب پروری اور پاک دامنی ان کا زیور رہی۔ وہ مردانہ صفات (بہادری، حوصلہ مندی اور زندہ دلی) کے ساتھ اُبھرے۔ اچھے اخلاق، اعلیٰ کردار، ملنساری، ہمسایہ نوازی اور برداشت سے لوگوں کو خوش رکھا۔ سچائی، امانت داری، شرافت، نرم مزاجی اور درگزری میں اپنی مثال آپ رہے۔ حقوقِ الٰہی ہوں یا انسانی، کاروباری و معاملاتی ہوں ، ان سب کی ادائیگی میں سیدنا محمدﷺ ہر ایک سے آگے دکھائی دیے۔ وہ جواب دیتے تو ان کا جواب لاجواب ہوتا، بولتے تو پھول جھڑتے، مجالس میں سخن آرا ہوتے تو خطیب لگتے۔ الغرض: حضرت محمدﷺ ہر شان میں یکتا دکھائی دیے۔ تو اہلِ مکہ نے سترہ انسانی اخلاقی خوبیوں کی بنا پر حضورﷺ کو اَلصَّادِق وَالْامِیْن لقب سے نوازا۔(۱) ان تمام اوصافِ جمیلہ کی ابتدا بچپن سے شروع ہوئی اور بارہ پندرہ سال کی عمر میں وہ نمونہ نظر آیا جس کے متعلق کہا گیا: کَانَ خُلْقُہُ الْقُرْآ نَ (۲)(عیون الاثر: ۲/۳۹۸) ’’ان کے اخلاق قرآن (کی ہدایات کے مطابق) تھے۔‘‘ -------------------------------- (۱) البدایہ والنہایہ: ۳۰/۴۲۲، نور الیقین: ۱/۱۵، الخصائص الکبریٰ: ۱/۱۵۳، السیرۃ لابن کثیر: ۱/۲۴۹ (۲) (عیون الاثر: ۲/۳۹۸)