اسلاف کی طالب علمانہ زندگی اور اصول و آداب کی مثالی رعایت |
|
آپ کی تصانیف کے صفحات کو آپ کے ایام زندگی پر تقسیم کیا جاوے تو صفحات کتب ایام زندگی پر فوقیت لے جائیں گے۔ (ملحض از نفع المفتی والسائل) بلوغ کے بعد سے آپ کی زندگی پر تصانیف کو تقسیم کا اندازہ لگایا گیا تو ہر دو ماہ اور بارہ تیرہ روز پر ایک تصنیف ہوتی ہے جب کہ ہر تصنیف کا اوسط ایک سو اٹھارہ صفحات سے زیادہ نکلتا ہے۔ ایک جگہ شیخ جمال الدین ؒ اپنا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔ وَقَدْ اِتَّفَقَ لِی بِحَمْدِہِ تَعَالٰی قِرَائَۃَ صَحِیْح مُسْلِمْ بِتَمَامِہِ رِوَایَۃً وَدَرَایَۃً فِی اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا وَقِرَأۃَ سُنَنِ اِبْنِ مَاجَہ کَذٰلِکَ فِی وَاحِدٍ وَعِشْرَیْنَ یَوْمًا وَقِرَأَۃَ الْمُؤَطَّا کَذٰلِکَ فِی تِسْعَۃَ عَشَرَ یَوْمًا وَتَقْرِیْبَ التَّھْذِیْبِ مَعَ تَصْحِیْحِ سَھْوِالْقَلَمِ فِیْہِ وَتَحْشِیَتِہٖ فِی نَحْوِعَشَرَۃِ اَیَّامٍ فَدَعْ عَنْکَ الْکَسْلَ وَاحْرِصْ عَلٰی عَزِیْزِ وَقْتِکَ بِدَرْسِ الْعِلْمَ وَاِحْسَانِ الْعَمَلِ۔ یعنی اللہ کے فضل سے مجھے یہ توفیق ملی کہ میں نے پوری صحیح مسلم روایۃ اور درایۃ صرف چالیس دن میں پڑھ لی، اسی طرح سنن ابن ماجہ ایکس دن میں،امام مالک کی مؤطا انیس دن میں پڑھ لی ، اسی طرح تقریب التہذیب دس روز میں پڑھ ڈالی ہے، جبکہ دوران مطالعہ اس کی قلمی غلطیوں کو درست بھی کیا اور حاشیہ بھی ساتھ ساتھ لکھتا گیا، پس اے طلبہ! میں تمہیں تاکید کرتاہوں کہ سستی اور کاہلی ترک کردواور اپنے اوقات عزیز کو حصول علم اور حسنِ عمل کی محنتوں میںکھپاؤ۔ (اقوال سلف) حضرت تھانوی نوراللہ مرقدہ کی شخصیت سے کون ناواقف ہے؟ آپ کی ذات کو اللہ تعالیٰ نے اس اخیردور میں نابغۂ روزگار بنایا تھا ، آپ سے جتنا کام لیاگیا بہت کم لوگوں سے لیا گیا ہوگا، ایک ہزار کے قریب آپ کی تصانیف ہیں، آپکے