اسلاف کی طالب علمانہ زندگی اور اصول و آداب کی مثالی رعایت |
|
اچھا دل اچھے موتی سے قیمتی ہے، علم تن آسانی کے ساتھ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ ابومسلم بن فہد کومخاطب کرکے محمدبن حسن زبیدی نے خوب کہا ہے۔ اَبَامُسْلِمٍ اِنَّ الْفَتٰی بِجِنَانِہِ وَمَقُوْلِہِ لَابِالْمَراکِبِ وَاللَّبَسِ وَلَیْسَ یُفِیْدُ الْعِلْمَ وَالْحِلْمَ وَالتُّقٰی اَبَا مُسْلِمٍ طُوْلُ الْقُعُوْدِ عَلَی الْکُرْسِی ترجمہ : ابومسلم آدمی اپنے دل اور زبان سے ہے نہ کہ اچھی اچھی سواریوں اور کپڑوں سے اور ابومسلم کرسی پر لدے رہنے سے علم ، عقل اور تقوی حاصل نہیںہوسکتا، (جامع البیان) کسی حکیم کا قول ہے۔ ’’مَنْ لَمْ یَحْتَمِلْ اَلَمَ التَّعَلُّمِ لَمْ یَذُقْ لَذَّۃَ الْعِلْمِ‘‘ علم کی راہ میں جس نے مشقتیں نہیں اٹھائیں، اس نے علم کا مزہ چکھا ہی نہیں۔ سحنون کا مقولہ ہے کہ ’’علم اسے راس نہیں آسکتا جوپیٹ بھر کر کھانا کھاتا ہے ۔ امام مالک کا قول ہے ’’یہ علم حاصل نہیںہوسکتا جب تک اس کی راہ میں فقروفاقہ کی لذت چکھی نہ جائے۔ کہنے والے نے صحیح کہا ہے ؎ تَمَنَّیْتَ اَنْ تُصْبِحَ فَقِیْھًا مُنَاظِرًا بِغَیْرِ عِنَائٍ وَالْجُنُوْنُ فُنُوْنُ وَلَیْسَ اِکْتِسَابُ الْمَالِ دُوْنَ مَشَقَّۃٍ تَحَمَّلُھَا فَالْعِلْمُ کَیْفَ یَکُوْنُ ترجمہ : تمہاری خواہش ہے کہ بغیر تکلیف اور مشقت اٹھائے ہوئے بڑے فقیہ اور عالم بن جاؤ، یہ پاگل پن اور جنون ہے، کیونکہ جب مال ودولت کا حصول مشقت برداشت کئے بغیر نہیں ہوسکتا،توپھر علم جو اس سے بدرجہا بلند وبالا ہے ، اس کا حصول مشقت کے بغیر کیسے ہوسکتا ہے؟شان وشوکت اور اسباب راحت کیساتھ علم نہیں آسکتا حضرت مولانا نورالحسن صاحب کاندھلوی جو مشہور اکابر علماء میںہیں ، ان کے درس میں طلباء کاہجوم رہتا تھا، شہرت سن کر ایک مرتبہ سورت (گجرات) کے ایک