اسلاف کی طالب علمانہ زندگی اور اصول و آداب کی مثالی رعایت |
|
درسگاہ نبویؐ کے تین طرح کے طلبہ درسگاہ نبویؐ میں علم حاصل کرنے والے طلبہ تین قسم کے تھے۔پہلی قسم کے طلبہ بڑا حصہ ان طلبہ کا تھا جو اپنے کاروبار اور معاشی مشاغل کیساتھ علم حاصل کرتے تھے۔ صورت اس کی یہ ہوتی تھی کہ اپنے کاروبار سے وقت نکال کر علم دین سیکھتے تھے، اگر دن کو کام کاج سے فرصت نہ ملتی تو رات کو حاضر ہوکر اس ضرورت کو پورا کرتے تھے، کیونکہ عمومی طور پر علمی اور دینی مزاج تھا۔ مسنداحمدمیں حضرت انس کی روایت ہے، فرماتے ہیں کہ کیا میں تمہیں تمہارے ان بھائیوں کے متعلق خبرنہ دوں جن کو ہم رسول اللہ ؐ کے زمانے میں قُرّاء کہا کرتے تھے ، وہ تعداد میں ستر تھے، رات کو وہ مدینہ میں اپنے استاد کے پاس جاتے اور صبح تک پڑھتے رہتے ،صبح کو ان میںسے جوطاقتور ہوتے وہ میٹھا پانی بھر کر لاتے اورلکڑی کاٹ کرلاتے اور فروخت کرتے، جن کوگنجائش ہوتی وہ جمع ہوکر بکری خریدلیتے اس کو بناتے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجروں کے پاس لٹکی رہتی ۔ اکابر صحابہ کی یہی صورت تھی، حتی کہ اگر کاروباری اور معاشی مشاغل کی کثرت کے سبب روزانہ حاضر نہ ہوسکتے تو کسی کو اپنا رفیق بنا کر باری باری حاضر ہوتے، ایک دن خود جاتے ایک دن ساتھی جاتا، واپسی پر جانے والا اس روز کے حالات و احکام نہ جانے والے ساتھی کو بتا دیتا، صحیح بخاری میں حضرت عمرؓ کا ارشاد نقل کیا گیا ہے۔ عَنْ عُمَرَ قَالَ کُنْتُ اَنَاوَجَارٌ لِی مِنْ الْاَنْصَارِفِیْ بَنِی اُمَیَّۃَ بْنَ زَیْدٍ میں اور میرا ایک انصاری پڑوسی بنو امیہ بن زید کے محلہ میں جو