اسلاف کی طالب علمانہ زندگی اور اصول و آداب کی مثالی رعایت |
|
اساتذہ کی خدمت کے برکات وثمرات کہنے والے نے صحیح کہا ہے ’’ہرکہ خدمت کرد اومخدوم شد‘‘ جو خادم بن کر زندگی گذارتاہے وہ مستقبل میں مخدوم بنتا ہے، بزرگوں کے سینکڑوں واقعات ہیںکہ انہوںنے اپنے اساتذہ اور علماء دین کی تن دہی کے ساتھ خدمت کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسا زبردست مقام عطافرمایا ، ان کی زندگی میں بلندی کے منجملہ اسباب کے خدمت کا وصف نمایا ں تھا جس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو دنیا کا مخدوم بنادیا۔ قاضی فخرالدین ارسابندی مصر میں رئیس الائمہ تھے، بادشاہ وقت بھی ان کا احترام کرتا تھا۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ منصب صرف استاذ کی خدمت سے پایا ہے، علاوہ اور خدمت کے تیس سال تک برابر میں اپنے استاذ قاضی ابوزیدد بوسی کا کھانا پکایا کرتا تھا اور بخیال ادب کبھی اس میں سے نہیںکھایا۔ (تحفۃ المتعلمین) حضرت علامہ بلیاویؒ کے بارے میں لکھا ہے کہ آپ کو بھی اپنے استاذ کی خدمت کا بے پناہ شوق تھا ، چنانچہ روزانہ اپنے استاذ حضرت شیخ الہند کی خدمت میںحاضر ہوکر سرمیں تیل مالش کیا کرتے تھے اورگھر سے درسگاہ تک اپنے استاذ کے ساتھ آیا کرتے تھے ، حضرت الاستاذ بھی آپ پر خصوصی نظر رکھتے تھے ۔ (اقوال سلف) حضرت اقدس مولانا قاری صدیق صاحب باندوی نے حضرت مولانا انظر شاہ صاحب کشمیر ی کے واسطے سے ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک بنگالی طالب علم ڈابھیل میںحضرت والد صاحبؒ (علامہ انورشاہ صاحب کشمیری) کی خدمت کیا کرتا تھا ، ذہن سے بہت کمزور تھا، محنت بھی زیادہ نہ کی تھی، سب طلبہ میں کمزور رہتا تھا، لیکن اللہ پاک نے اس سے دین کی بڑی خدمت لی، اس وقت وہ اپنے علاقہ