اسلاف کی طالب علمانہ زندگی اور اصول و آداب کی مثالی رعایت |
|
اس کا نتیجہ سوائے حرماں کے کچھ نہیںہوتا۔ اس وہم و گمان پر بھی کبھی سبق ناغہ نہ کرنا چاہئے کہ طلبہ سے تکرار کرلونگا کیوں کہ طالب علم استاذ کی پوری تقریر نہیں دہرا سکتااور اگر بعد میں خود استاذ سے بھی پڑھ لو گے تو بھی انفراداً پڑھنے میں وہ بات کہاں حاصل ہوسکتی ہے جو درس میں تھی، درس میں مجمع کی طلب اور توجہ پر جو مضامین استاذ کے قلب پر وارد ہوئے تھے وہ نہیں آسکتے گو استاذ کوشش بھی کرے۔ہمارے اسلاف اور اسباق کی پابندی ہمارے اسلاف و اکابر اسباق کا بے حد اہتمام کرتے تھے، کبھی ناغہ نہیں کرتے تھے۔ علامہ ابن الجوزیؒ فرماتے ہیں کہ میں سبق میں پہنچنے کے لئے اس قدر جلدی کرتا تھا کہ دوڑنے کی وجہ سے میری سانس پھولنے لگتی تھی۔ امام ثعلب کہتے ہیں کہ پچاس برس سے برابر میں ابراہیم حربی کو اپنی مجلس میں حاضر پاتا ہوں، کبھی انہوں نے ناغہ نہیں کیا۔ (آداب المتعلمین) حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی طالبعمانہ زندگی خود انہی کی زبانی سنئے: از ابتدائے ایام طفولیت نمی دانم کہ بازی چیست و خواب کدام ، مصاحبت کیست و آرام چہ و آسائش کو، سیر کجا، شب خواب چہ و سکون کدام، خود خواب بعاشقاں حرام است، ہرگز در شوق کسب و کار طعام بوقت بچپن ہی سے میں نہیں جانتا کہ کھیل کیا ہے، سونا کون سی چیز ہے، صحبت و یارباشی کس چیز کا نام ہے اور آرام کس کو کہتے ہیں ، راحت کہان اور سیر و تفریح کیسی؟ رات کو نیند کیسی؟ آرام کہاں، نیند تو عاشقوں پر