اسلاف کی طالب علمانہ زندگی اور اصول و آداب کی مثالی رعایت |
|
سے ربط نہ رکھیں، رکھیں گے تو انبیاء سے خیانت کریں گے، تم ان سے پرہیز کرنا دور رہنا۔ (جامع بیان العلم)ْاستغنا اور صفات کے بنانے کا زمانہ آپکا یہ طالب علمی کا زمانہ صفات کو بنانے کا زمانہ ہے ، یہ صفات اسی زمانۂ تلمذ کی تمرین و مشق اور محنت سے اور علم کی صحیح عظمت و وقار اور قدردانی کرتے ہوئے اس کے آداب کی رعایت کے ساتھ حاصل کرنے سے پیدا ہوتے ہیں اور اس زمانے میں جو صفات بنتے ہیں وہ آخر تک رہتے ہیں۔ اللہ والوں کے اور حقیقی علم رکھنے والوں کے حالات کو دیکھئے ! وہ اسی شان استغنا کے ساتھ زندگی گذارتے تھے، ان کی نگاہیں صرف اللہ کی ذات عالی کے ساتھ وابستہ تھیں، دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی ان کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھی، یہی وجہ تھی کہ ان کی دعوت کی راہ میں کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی سدراہ نہیں بنی، ان کی شان تھی ’’لَایَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَائِمٍ‘‘ بڑے بڑے امراء حکماء اور بڑی سلطنتوں کے سامنے بھی مرعوب نہیں ہوئے، سپر طاقتوں نے بھی ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دئے، ………یہ ان کی شان استغنا، خدا ترسی، اور جذبۂ اخلاص و للہیت کی برکت تھی کہ بالکل بے سرو ساماں ہوکر بھی زمانے پر حاوی تھے ۔ پس ہمارے عزیز طلبہ بھی اپنے بزرگوں کے حالات کا مطالعہ کریں، مطالعہ کا ذوق پیدا کریں، ان کی سی زندگی سیکھیں، ایسے صفات اپنے اندر لانے کی کوشش کریں، علم کی اور اپنی صحیح قدر جانیں، آپ بے سرو سامان نہیں ہیں، بے یارومددگار نہیں ہیں، بلکہ ساری دنیا سے بڑی دولت آپکے ہاتھ میں ہے، یہ الگ بات ہے کہ اتنی بڑی دولت ہاتھ میں ہو اور آپ قدر نہ جانیں۔ قدر جو ہر شاہ داند یابداند جوہری