اسلاف کی طالب علمانہ زندگی اور اصول و آداب کی مثالی رعایت |
|
کے اصرار پر تین دن روپوش رہے۔ تین دن پورے ہوتے ہی ایک دم باہر نکل آئے اور کھلے عام چلنے پھرنے لگے ، لوگوں نے پھر روپوشی کے لئے عرض کیا ،تو فرمایا تین دن سے زائد روپوش رہنا سنت کے خلاف ہے کیونکہ جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے وقت غار ثور میں تین ہی دن تک روپوش رہے۔ (سوانح قاسمی) اندازہ کیجئے اس وقت ظالم انگریز کا ظلم و جور اپنے نقطۂ عروج پر تھا، لیکن حجۃ الاسلا اپنی حیات سے بے نیاز ہوکر اس موقع پر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اضطراری کو ترک کرنے پر آمادہ نہ ہوئے اور تین دن کے بعد فوراً نکل آئے اور کھلے عام گھومنے لگے، اس روپوشی کی حالت میں بھی آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے عشق و محبت کا تعلق اور رابطہ مستحکم ہی رکھا اور اس نازک حالت میں بھی سنت پر نگاہ جمی رہی تھا اسیری میں بھی کچھ ایسا تعلق روح کو ہر قفس میں روز خواب آشیاں دیکھا کئے (بیس بڑے مسلمان)حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی اور اتباع سنت حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ جو ہمارے اکابر میں ہیں، بڑے محدث اور بزرگ ہیں مدرسہ دیوبند میں ایک جلسہ تھا، اس میں آپ تشریف لائے، مجمع کئی ہزار کا تھا، اذان کے بعد آپ نماز کے لئے چلے، مسجد ایسے وقت میں پہنچے جب کہ مولانا محمد یعقوب صاحب نماز کے لئے کھڑے ہوچکے تھے، تکبیر تحریمہ ہوچکی تھی حضرت کو تکبیر تحریمہ فوت ہونے کا بہت رنج ہوا۔ چنانچہ نماز کے بعد لوگوںنے محسوس کیا کہ حضرت بہت زیادہ غمگین ہیں، یہ کیفیت دیکھ کر بعض خدام نے عرض کیا کہ ابھی کچھ دیر پہلے تو آپ بڑے ہشاش بشاش تھے، کیا بات ہوگئی؟ جس کی وجہ سے اس قدر غمگین ہیں، تو فرمایا رشید احمد