حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا بچپن |
|
ساتھ ہمارے گھروں کے پیچھے چلے گئے، جب دوپہر کا وقت ہوا تو یکایک میں دیکھتی ہوں کہ میرا بیٹا ضمرہ گھبرایا ہوا، دوڑتا ہوا آ رہا ہے، اس کی پیشانی سے پسینہ گر رہا ہے، اس پر حیرانی و پریشانی سوار ہے اور وہ چیخ رہا ہے ’’اے ابا، اے اماں ! میرے بھائی محمدﷺ کے پاس جائو! تم نہیں مل سکو گے اس سے، مگر شاید تمہارے وہاں پہنچنے تک وہ مر چکا ہوگا‘‘ میں نے پوچھا: بات کیا ہے؟ بولا: کہ ہم لوگ کھڑے ہوئے تھے، پتھر پھینک رہے تھے اور کھیل رہے تھے، اچانک اس کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے محمدﷺ کو اُچک لیا، ہمارے بیچ میں سے اور اس کو پہاڑی کی چوٹی پر لے گیا، ہم اس کی طرف دیکھتے رہ گئے، اس شخص نے پہاڑ پر لے جا کر محمدﷺ کا سینے سے لے کر ناف کے نیچے تک پیٹ چیر دیا۔ باقی مجھے نہیں پتا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا؟ میں نہیں سمجھتا کہ آپ لوگ اس کو مل سکو گے۔ مگر شاید تمہارے وہاں پہنچنے تک وہ مر چکا ہوگا۔ وَلاَ اَظُنُّکُمَا تَلْحَقَاہُ اَبَدًا الاَّمَیِّتاً ’’میرا دل نہیں مانتا کہ تم اسے زندہ پائو گے۔‘‘(۱) قارئین! معجزات کی مستند کتاب ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں یہ باتیں جس انداز سے لکھی ہیں معلوم ہوتا ہے کہ راوی نے سیدہ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کے الفاظ کو ہوبہو نقل کیا ہے اور سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بیٹے ’’ضمرہ‘‘ کی باتیں اس انداز سے نقل کی ہیں کہ ان الفاظ سے ضمرہ کے دل کی کیفیت بھی کھل جاتی ہے کہ وہ کس قدر گھبرائے ہوئے تھے، یہ سب واقعات بیٹے سے سنے تو فوراً حلیمہ رضی اللہ عنہا اور ان کے شوہر دوڑتے ہوئے ان کے پاس گئے۔ حلیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ہم ان کے پاس پہاڑی کی چوٹی پر پہنچے تو وہ بیٹھے ہوئے تھے، ان کی نگاہ اوپر کو اُٹھی ہوئی تھی، مگر وہ مسکرا رہے تھے، میں جا کر محمدﷺ سے لپٹ گئی، ان کی آنکھوں کے درمیان بوسہ لیا اور میں نے کہا: ----------------------- (۱) دلائل النبوۃ للبیھقی: ۱/۱۴۰، سبل الہدیٰ ۱/۳۸۸، عذب الکلام: ۱/۱۹۶