اسلاف کی طالب علمانہ زندگی اور اصول و آداب کی مثالی رعایت |
|
دلوںکے لئے علم اسی طرح زندگی ہے جس طرح مینہ سے زمین زندہ ہوجاتی ہے ، علم کوری کو دل سے اسی طرح زائل کردیتا ہے جس طرح چانداندھیرے گھپ کو۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علم وحکمت عزت دار آدمی کو اور زیادہ عزت بخشتا ہے اور غلام کو بلند کرتے کرتے بادشاہوں کے تخت پر بٹھادیتا ہے۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ علم مال سے سات طریقوں سے افضل ہے ۱)علم میراث انبیاء ہے اور مال میراث فراعنہ ہے۔ ۲) علم خرچ کرنے سے کم نہیںہوتا اور مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے۔ ۳) مال محافظ کامحتاج ہے اور علم خود صاحب علم کی حفاظت کرتاہے ۔ ۴) آدمی کے مرنے کے بعد مال پیچھے رہ جاتاہے اورعلم قبر میں بھی ساتھ جاتاہے ۔ ۵) مال مومن وکافر دونوں کوملتاہے اور حقیقی علم صرف مومن ہی کوحاصل ہوتا ہے ۔ ۶) دین کے معاملات میں سبھی لوگ عالم کے محتاج ہیں اور مال والے کاہر شخص محتاج نہیں۔ ۷) علم آدمی کو پل صراط پر گذرنے میں قوت بخشے گا اور مال بوجھل بنادیگا۔ قوم عمالقہ سے جہاد کے لئے بنی اسرائیل کے اندر طالوت کوحکمراں اور بادشاہ بنایا گیا اور وجہ فضیلت اور سبب بادشاہت علم اورجسمانی قوت کو بیان کیاپس فرمایا ۔’’وَزَادَہٗ بَسَّطَۃً فِی الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ‘‘ علم کوجسمانی قوت سے پہلے ذکر کیا۔ اسی طرح حضرت یوسف ؑ نے عزیز مصر سے کہا ؎ قَالَ اجْعَلْنِی عَلٰی خَزَائِنِ کہا کہ ملکی خزانے پر مجھے لگا