پردیس میں تذکرہ وطن |
س کتاب ک |
|
بنادے اور سارے عالم کے کافروں کو بھی اللہ تعالیٰ جذب فرماکر ایمان دے دے اور ان کو بھی ولی بنادے اور جنّتی بنادے اور اپنی رحمت سے قبول فرمالیجیے۔ مورخہ۳۰؍ربیع الاول ۱۴۲۵ ھ مطابق ۱۹؍مئی ۲۰۰۴ء ،بروز بدھمجلس بعد عشاء دربرآمدہ مسجد دارالعلوم آزاد ول حضرت مولانا یونس پٹیل صاحب کے مدرسہ ڈربن میں پانچ دن قیام کے بعد آج مورخہ ۱۹؍مئی کو حضرتِ والا کی آزاد ول روانگی کا دن تھا۔ حضرت مولانا عبدالحمید صاحب کی درخواست پر حضرتِ والا نے دوبارہ دو دن آزاد ول میں رہنا منظور فرمالیا تھا۔ چناں چہ پونے گیارہ بجے صبح حضرتِ والا مع رفقاء کے جوہانسبرگ کے لیے روانہ ہوئے اور سوا بارہ بجے ہوائی جہاز جوہانسبرگ ایئرپورٹ پر اُترا۔ جہاں سے حضرت مولانا عبدالحمید صاحب کی کار میں آزاد ول پہنچے۔ عشاء کے بعد مسجد آزاد ول کے خارجی برآمدہ میں حضرتِ والا تشریف لائے، طلباء نے جوشِ مسرت میں نعرۂ تکبیر سے استقبال کیا۔ حضرتِ والا کے اشعار پڑھے جانے کے بعد حضرتِ والا نے خطبہ پڑھا اور بیان شروع فرمایا جس کا ترجمہ مولانا عبدالحمید صاحب درمیان میں کرتے رہے۔ دو گھنٹہ سے زیادہ بیان جاری رہا جس کے اقتباسات یہاں نقل کیے جاتے ہیں۔ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِکلمہ کی بنیاد ارشاد فرمایا کہبعض لوگ کہتے ہیں کہ اختر حسینوں کے پیچھے پڑا ہوا ہے، دین کے اور بھی تو احکام ہیں لیکن میں کہتا ہوں کہ کلمہ کی بنیاد لَا اِلٰہَ پر ہے کہ کوئی اِلہٰ نہیں اور تم نے ان حسینوں کو اِلٰہ بنایا ہوا ہے میرا سبق کلمہ کی بنیاد لَااِلٰہَ سے چلتا ہے لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ کوئی نہیں ہے سوائے اللہ کے یعنی: