پردیس میں تذکرہ وطن |
س کتاب ک |
|
اور یہ مقصدِ حیات ہو بھی کیسے سکتا ہے۔ اگر مقصدِ حیات ہے تو انزال کے بعد کیوں منہ چھپاکر بھاگتے ہو اور ناپاک ہوجاتے ہو۔ جو چیز ناپاک کردے وہ جائز بھی ہو لیکن مقصدِ حیات نہیں ہوسکتی۔ بیوی اگر کم خوبصورت ہے تو اچھا ہے، زیادہ دیر اللہ کے ذکر میں لگاؤ گے ورنہ بیوی ہی کو دیکھتے رہو گے۔ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ بہت حسین تھے لیکن بیوی ایسی تھی جس پر حسن کا اطلاق ہی نہیں ہوتا تھا۔ ایک طالب علم کی نظر پڑ گئی تو وہ رونے لگا کہ استاد!آپ کی تو قسمت خراب ہوگئی جتنے آپ حسین ہیں بیوی اتنی ہی بدصورت ہے۔ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ بے وقوف! روتا کیا ہے۔ اگر بیوی حسین ہوتی تو اُسی کے پاس بیٹھا رہتا نہ تم کو پڑھاتا نہ یہ کتابیں لکھتا جو لکھ رہا ہوں یعنی زیادات، مبسوط، سیر کبیر، سیر صغیر، جامع صغیر، جامع کبیر۔ پھر فرمایا کہ اللہ جس سے دین کا کام لیتا ہے اس کو مٹی کے کھلونوں میں مشغول نہیں ہونے دیتا، یہ تکوینی انتظام ہوتا ہے۔جنّت اور حوروں سے بھی بڑی لذت اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا اَلَیۡسَ اللہُ بِکَافٍ عَبۡدَہٗ؎ کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے۔ میر صاحب، مطہر محمود اور حافظ ضیاء الرحمٰن کے پاس بیویاں نہیں ہیں، اور میر صاحب تو ۶۵؍سال کے ہوگئے۔ ۶۵؍سال تک ان کا چوہا بِل نارسیدہ ولذتِ بِل ناچشیدہ ہے اس لیے آبدیدہ ہے تو کیا ان لوگوں کے دن رات نہیں کٹ رہے ہیں؟ عرض کیا کہ بہت مزے دار کٹ رہے ہیں۔ احقر راقم الحروف نے عرض کیا کہ جنّت میں بس حضرتِ والا مل جائیں تو سب کچھ مل گیا، حوروں کی بھی ضرورت نہیں، حضرتِ والا کی معیت میں ایسا مزہ ہے کہ بیان نہیں کرسکتا۔ حضرتِ والا نے فرمایا: دیکھو میر صاحب کیا کہہ رہے ہیں کہ جنت میں اگر حوریں نہ ملیں بس اختر مل جائے تو یہ کافی ہے۔ یہ اللہ کی محبت ہے، جو محبت اللہ کے لیے ہوتی ہے وہ اللہ ہی کی محبت میں شامل ہے اور اللہ کے مقابلہ میں حوروں کی کیا حیثیت ہے۔ جنت میں جب اللہ ------------------------------