پردیس میں تذکرہ وطن |
س کتاب ک |
|
اور دوسرے مصرعہ میں دردِ معتبر کی علامت بیان ہوئی ہے ؎ ہمارے سر کو ہر لمحہ تو وقفِ سنگِ در کردے دردِ معتبر وہ ہے جس کا سر اللہ کی چوکھٹ کا ہوکر رہ جائے۔ اللہ کے دروازے پر جو سر جُھکے گا تو اس کے لیے وقف ہوجائے گا، غیر اللہ سے محبت کے لیے خالی نہ رہے گا۔ جو سر اللہ کے لیے خالص وقف ہوجائے وہ غیر اللہ کے لیے کب ہوگا۔ غیر اللہ کے گو موت اور غلاظت سے اس کی حفاظت رہتی ہے۔ عاشقانِ مجاز کی کیا حقیقت ہے یہ بھی سمجھ لو کہ پیشاب کے مقام پر یاپاخانے کے مقام پر پاگل ہونا عشقِ مجاز ہے۔ ایسی گندی جگہوں پر عاشق ہونا کوئی شریف آدمی کا کام ہے؟ حماقت ہے اور بے وقوفی کی انتہا ہے ؎ مری آہوں کو لُطفِ خاص سے تو بااثر کردے کرم سے میری جانِ بے خبر کو باخبر کردے حضرتِ والا نے ارشاد فرمایا: جانِ بے خبر یعنی جانِ غافل۔ اللہ کی بڑائی سے، اللہ کی عظمت سے، اللہ کے قہر سے، اللہ کی قدرتِ انتقامیہ سے جب آدمی بے خبر ہوتا ہے تب ہی تو گناہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اگر عارف ہوجائے، عارف باللہ ہوجائے، اللہ کو پہچان لے، اللہ کی غیر محدود طاقت غیر محدود صفات کو سامنے رکھے تو کیسے گناہ کرے گا۔اللہ کے راستہ کے مرد کون ہیں؟ ارشاد فرمایا کہنفس چاہتا ہے حرام کام کو اور عقل کہتی ہے کہ حرام کام نہ کرو۔ اس وقت نفس کا مقابلہ کرو تب مردِ میدان ہو ورنہ ہیجڑے ہو، چوڑیاں پہن کر بیٹھ جاؤ، اللہ کے راستے میں چلنا تمہارا نصیبہ نہیں معلوم ہوتا ہے۔ ہمارے میر صاحب کا شعر ہے ؎ خود اپنی تمناؤں کا خون کرنا نہیں کام اے دل ہے یہ ہیجڑوں کا حسینوں سے نظریں بچاکر تڑپنا یہ ہیں شیر مردوں کی ہمت کی باتیں جو اللہ کے راستے میں ہمت سے کام لیتے ہیں اور نفس کو پٹک دیتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے مرد فرمایا ہے۔