پردیس میں تذکرہ وطن |
س کتاب ک |
|
دیے۔ اس میں تعلیم ہے کہ ایسے وقت رونا، فریاد کرنا، دعا کرنا یعنی وہاں قرار نبی کی سنت کے خلاف ہے اور موقعِ گناہ سے فرار سنتِ نبی ہے، اس کے بعد مدد آئی ہے اور تالے کُھلے ہیں۔ پس اگر اللہ کی مدد لینا ہے تو تین کام کرلو: آنکھ کو بچاؤ، قلب کو بچاؤ اور جسم کو بھی حسینوں سے دور لے جاؤ۔ ان تینوں کے قریب ہونے سے لعنت برستی ہے اور لعنت اور رحمت میں تضاد ہے اور اجتماعِ ضدّین محال ہے۔حُسن سے احتیاط میں بھی حضرت امام ابو حنیفہ کی تقلید کیجیے ارشاد فرمایا کہہم لوگ حنفی ہیں، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مقلّد ہیں تو امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا عمل کیا تھا؟ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ بہت حسین تھے۔ امام صاحب درس میں ان کو پیٹھ کے پیچھے بیٹھاتے تھے۔ کسی بدنامی کا خوف نہیں کیا کہ لوگ کیا کہیں گے کہ امام صاحب حسینوں سے متأثر ہوتے ہیں ؎ نہ بدنامی کا خطرہ ہے نہ پروائے ملامَت ہے اللہ والوں کو بدنامی کا خطرہ نہیں ہوتا، ان کی نظر اللہ پر ہوتی ہے کہ اللہ ناراض نہ ہو۔ درس میں سامنے نہیں بٹھایا پیچھے بٹھایا، جب داڑھی چراغ کے سائے میں ہلنے لگی تب کہا اچھا بھائی!تمہاری داڑھی اتنی بڑی ہوگئی اب سامنے آجاؤ۔ یعنی برسوں ساتھ رہے داڑھی بڑھنے کی تلاش بھی نہیں کی کہ روزانہ ناپتے رہیں کہ آج کتنی بڑھی، ناپنے کے بہانے سے نفس مزہ لے لیتا، ایسے خالی الذہن ہوگئے کہ کبھی نظر اُٹھا کر بھی نہیں دیکھا اور کیا تقویٰ تھا کہ یہ بھی خبر نہ ہوئی کہ داڑھی بڑھ گئی ہے۔ یہ واقعہ میرے شیخ حضرت پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے بارہا سنایا۔ اب بتاؤ ہم حنفی ہیں یا نہیں؟ اس پر عمل کرنا امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید ہے یا نہیں؟ کیوں ڈرتے ہو بدنامی سے کہ لوگ کیا کہیں گے، اساتذہ اور طالب علم کیا کہیں گے کہ حُسن کی تاب نہیں لاسکے۔ اللہ کو تاب دکھلانا ہے یا اپنا ضعف دکھلانا ہےخُلِقَ الۡاِنۡسَانُ ضَعِیۡفًا اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں ضعیف فرمایا،تم اللہ کو پہلوانی دِکھارہے ہو، اس لیے اپنے کو کمزور سمجھو اورحسین طالب علموں کو سامنے نہ بٹھاؤ، ان کو متن نہ بناؤ حاشیہ بناؤ اور دائیں بائیں بٹھاؤ جو غیر حسین ہیں