پردیس میں تذکرہ وطن |
س کتاب ک |
|
ہو نہیں سکتا اور اگر ہو بھی جائے تو باقی نہیں رہ سکتا۔ یہ فراست مجدّدِ زمانہ ہی کی ہوسکتی ہے۔ سبحان اللہ! یہ مجددِ زمانہ کی تعلیمات ہیں۔ اللہ نے خبر دے دی کہ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ دنیا میں جاؤ لیکن بعض، بعض کا دشمن رہے گا تو اللہ کی خبر کیسے غلط ہوسکتی ہے؟لہٰذا اگر کوئی یہ چاہے کہ ساری دنیا مجھ سے پیار کرے وہ بے وقوف ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے کہ کچھ لوگ ایک دوسرے کے دشمن رہیں گےبَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ حال ذوالحال سے الگ نہیں ہوسکتا۔ اگر اللہ والے ہیں تو باوجود اختلاف اور دشمنی کے ایک دوسرے کو نقصان بھی نہیں پہنچائیں گے، دل میں محبت تو نہیں ہوگی مگر نقصان بھی نہیں پہنچائیں گے، دنیا دار ہوں گے تو لڑیں گے، ایک دوسرے کے درپے آزار ہوں گے یہاں تک کہ آپس میں قتل و خون ہوجاتا ہے۔ ہابیل و قابیل دونوں سگے بھائی تھے اور اولاد پیغمبر تھے مگر قاتل کون ہے؟ قابیل جس کے نام میں بڑا قاف ہے۔ قابیل قاتل ہے ہابیل مقتول ہیں۔ شبہ ہوجاتا ہے کہ قاتل کون ہے تو یاد کرنے کے لیے آسان ترکیب یہ ہے کہ قابیل جس کے نام میں قاتل کا قاف ہے وہی قاتل ہے۔مجلس بعد مغرب بَر مکان سلیمان صاحب (آزاد ول) مغرب کے بعد کچھ احباب حضرتِ والا کے کمرے میں آگئے۔ حضرتِ والا نے مولانا رفیق ہتھورانی صاحب سے شعر سنانے کے لیے فرمایا۔ انہوں نے حضرتِ والا کی غزل ؏ جس کے دل میں نہیں ہے ترا درد و غم بہت درد سے پڑھی۔ جب یہ شعر پڑھا ؎ صحبتِ اہل دل سے ملا دردِ دل ورنہ پاتے کہاں سے یہ دولت بھی ہم تو حضرت مرشدی دامت برکاتہم نے فرمایا کہ حضرت مولانا شاہ محمد احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں،میں تین سال رہا، پندرہ سال کی عمر سے اٹھارہ سال کی عمر تک۔ ان کا کیا کمال تھا؟ وہ سراپا دردِ محبت تھے۔ علمائے ندوہ سب ان سے منسلک اور ان کے معتقد