پردیس میں تذکرہ وطن |
س کتاب ک |
|
لَا مَقْصُوْدَ اِلَّا اللہ، لَا مَوْجُوْدَ اِلَّا اللہ، لَا مَعْبُوْدَ اِلَّا اللہ تو پھر ان غیروں کو کیوں معبود بناتے ہو، ان کے پیچھے ہاتھ جوڑے ہوئے پھرتے ہو، شرم نہیں آتی، عاشقِ مجاز شرم کا پیالہ پی جاتے ہیں، یہ سب کے سب بے وقوف ہیں۔ سن لو! چاہے برا معلوم ہو چاہے بھلا مگر میں صاف بات کُھل کر کہتا ہوں کہ جتنے عاشقِ مجاز ہیں سب بے وقوف اور گدھے ہیں، سوائے اللہ کے عاشق کے اور اللہ والوں کے عاشق کے۔ اللہ جس سے ملتا ہے اس کا عشق بھی اللہ تعالیٰ اپنی محبت کے کھاتے میں لکھتا ہے اور کھاتہ اس لیے بولتا ہوں کہ گجراتی لوگ تاجر ہوتے ہیں کھاتہ بھی خوب جانتے ہیں۔ اب اس کی تھوڑی سی تفصیل کرتا ہوں۔ دیکھیے معشوق یا لڑکا ہوگا یا لڑکی ہوگی۔ آج جو لڑکی معشوقہ ہے اور جو لڑکا معشوق ہے جس کے سامنے سجدہ کرنے کو عاشقوں کا جی چاہتا ہے، کتنے بے غیرت اور کمینہ خصلت ہیں یہ عاشقِ مجاز تو جس لڑکے سے دل لگایا وہ کبھی ابّا ہوگا پھر دادا بھی بنے گا اور نانا بھی بنے گا۔اسی طرح جس لڑکی پر فدا ہورہے تھے وہ ایک دن امّاں بنے گی، پھر نانی بنے گی اور دادی بنے گی۔ میرے اشعار ہیں ؎ کمر جُھک کے مثل کمانی ہوئی کوئی نانا ہوا کوئی نانی ہوئی ان کے بالوں پہ غالب سفیدی ہوئی کوئی دادا ہوا کوئی دادی ہوئی تو جن کا انجام یہ ہونا ہے ان سے دل لگانے والا احمق ہے یا نہیں، گدھا نمبر ون ہے کہ نہیں؟ اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ سے دل لگانے والا آپ ہی لوگ فیصلہ کیجیے کہ کیا ہے، کیوں کہ جب وہ لڑکی نانی اور لڑکا نانا بن جائے گا تو کس منہ سے اس کو بتائے گا کہ میں تمہارے پرانے عاشقوں میں سے ہوں۔ اگر دلیری کرکے کہا بھی کہ میں آپ پر عاشق تھا تو جوتا لے کر دوڑائے گا، اتنے جوتے مارے گا کہ سر پر ایک بال بھی نہ رہے گا اور اگر لڑکی ہے اور نانی اماں یا دادی اماں بن گئی اور اس سے کہا کہ جب تم جوان تھیں تو میں تم پر عاشق تھا تو وہ بھی چپل رسید کرے گی، کہے گی کہ ظالم! مجھے رسوا کرتا ہے۔ عشقِ مجازی از ابتدا تا انتہا پاگل