اسلاف کی طالب علمانہ زندگی اور اصول و آداب کی مثالی رعایت |
|
ان کو ایسا نوازا کہ دنیا آج ان کے علوم سے فیض اٹھارہی ہے۔ امام ابویوسفؒ کی شخصیت سے کون ناواقف ہے، آپ کے بارے میں خود آپ کے جلیل القدر استاذ امام ابوحنیفہ ؒ نے فرمایا تھا کہ ابویوسف ! تم توبہت کند ذہن تھے مگر تمہاری کوشش اور مداومت نے تمہیں آگے بڑھادیا۔ (تعلیم المتعلم) بعد میں اللہ تعالیٰ نے کیا مقام عطاکیا ، اس کا اندازہ اس واقعہ سے کیجئے ، امام محمدفرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ امام ابویوسف ایسے شدید بیمار ہوئے کہ مرض الموت کا اندیشہ ہونے لگا، توامام صاحب عیادت کیلئے گئے ہم بھی ساتھ تھے ، جب عیادت کرکے واپس لوٹے تو امام صاحب نے اپنے ہاتھ ان کی چوکھٹ پر مار کر فرمایا اگر یہ نوجوان مرگیا توبڑخلاء ہوجائے گا کیونکہ …………زمین کی طرف اشارہ کرکے کہا ۔ اس پر بسنے والوں میں سب سے زیادہ علم رکھتاہے، یہ اسی محنت وجدوجہد کا نتیجہ تھا۔ (اخلاق العلماء) حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب اپنے والد حضرت مولانایحییٰ صاحب کا یہ مقولہ بارہا نقل فرماتے تھے کہ آدمی چاہے کتنا ہی غبی ہو،لیکن اگر یکسوئی کا خوگرہوکر کام میںلگا رہا تو کام کابن جائیگا ، لہٰذا طالب علم کو ہر وقت ہمیشہ کوشش ومحنت میں لگے رہنا چاہیئے، اس لئے کہ کوشش اور محنت ہی سے آدمی بلندی کے مراتب طے کرسکتا ہے۔ ایک شاعر نے خوب کہا ہے ؎ بِقَدْرِ الْکَدِّتُکْتَسَبُ الْمَعَالِی مَنْ طَلَبَ الْعُلٰی سَھِرَ اللَّیَالِی تَرُوْمُ الْعِزَّثُمَّ تَنَامُ لَیْلاً یَغُوْصُ الْبَحْرَ مَنْ طَلَبَ الَّلٓالِی ترجمہ ۔ انسان بلند درجات پر اپنی کوشش کے مطابق پہنچ سکتا ہے ، جوبلندی کے درجات تک پہنچنے کی خواہش رکھتا ہے اس کا پہلا فرض ہے راتوں کو جاگنا ، یہ تو عجیب بات ہے کہ خواہش تو عزت وترقی کی ہو اور راتین نیند میں گذرجائیں۔