اسلاف کی طالب علمانہ زندگی اور اصول و آداب کی مثالی رعایت |
|
طلبہ کی علمی استعداد ایسی مضبوط ہوتی تھی کہ حضرت مولانا بدرعالم صاحب میرٹھی قیام مدینہ منورہ کے زمانے میںفرماتے تھے کہ میںجس وقت دارالعلوم دیوبندمیں سلم العلوم پڑھاتا تھا، توکانپتا تھا چونکہ طلبہ میںبعض کوملامبین شرح سلم حفظ تھی ، آہ! علم کی پستی کہ آج کل شرح تو شرح متن بھی حفظ نہیں، حفظ تودرکنار ناظرہ بھی صحیح نہیں کہ عبارت صحیح نہیں پڑھ سکتے الاماشاء اللہ۔ زمانۂ طالبعلمی میںجبکہ حضرت تھانوی کی عمراٹھارہ سال تھی ،حضرت کو مرض خارش لاحق ہوا، اس لئے وطن آگئے اور بطور مشغلہ فارسی اشعار پر مشتمل مثنوی ’’زیروبم‘‘تحریر فرمائی ، جوآپ کی پہلی تصنیف ہے۔ چنانچہ اس کی تمہید اس طرح شروع کی ہے ’’ہمی گویدگرفتار دردونالہ نادان ہیشدہ سالہ۔ زمانۂ طالبعلمی میں حضرت علامہ انورشاہ کشمیری ایک مرتبہ منطق اور نحو کے چندرسائل کا مطالعہ کررہے تھے، اتفاقاً ایک بڑے عالم اس وقت آپ کے پاس آگئے، ان عالم نے ان کتابوں کو اٹھاکردیکھا تو کتابوں پر خود حضرت شاہ صاحب کے حواشی لکھے ہوئے تھے۔ بچپن کے زمانہ کی اس ذکاوت ، تیز طبع، جودت فہم اور طبیعت کی دور رسی کا اندازہ کرکے بے اختیار انہوں نے کہا کہ ’’یہ بچہ اپنے وقت کا رازی اوراپنے زمانہ کا غزالی ہوگا۔‘‘ حضرت علامہ کشمیری نے خود ایک دفعہ فرمایا کہ میں نوسال کی عمر میں فقہ ونحوکی مطولات کا مطالعہ کرچکا تھا اور بارہ سال کی عمر میں فتاوی دینے لگا تھا۔ ذَلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُوْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ (بروں کا بچپن) سوانح یوسفی میں حضرت مولانا یوسف صاحبؒ کے حالات میں لکھاہے کہ آپ اپنے دورِ طالبعلمی میں جب مشکوٰۃ شریف پڑھتے تھے ۔ اسی وقت حالات صحابہ وتابعین کی تحقیقات کاکام شروع کردیا تھا، چنانچہ بعد میں چل کر ’’حیاۃ الصحابہ‘‘ عربی میں تین ضخیم جلدیں اسی زمانہ کی کدوکاوش کا عظیم شاہکار ہیں۔