اسلاف کی طالب علمانہ زندگی اور اصول و آداب کی مثالی رعایت |
|
وجہ سے انسان یہ شرف رکھتاہے، اور یہ علم صرف انسان ہی کو بخشا گیا۔ دنیا میں چار ذی شعور مخلوقات ہیں، انسان ، ملائکہ ، جنات اور حیوانات ان میںانسان کے علاوہ کسی کو یہ علم عطا نہیں کیا گیا، اگران میں سے کسی کوکسی قدرنصیب ہواتوانسان کے طفیل اور اس کے واسطے سے ہوا، اصل اس میں انسان ہی رہا۔ حضرت حسن بصریؒ کاارشاد ہے کہ اگرعلماء نہ ہوتے تو لوگ جانوروںکے مانند ہوتے کیونکہ تعلیم اور علم ہی کے ذریعہ حد بہیمیت سے نکل کر حد انسانیت کی طرف آتے ہیں۔ (تحفۃ المتعلمین ) چنانچہ اولین انسان حضرت آدم علیہ السلام کو تمام فرشتوں پر جو فضیلت عطا کی گئی حالانکہ طہروتقدس، عصمت وعفاف اور عبادت وریاضت کیسی محبوب صفتیں ہیں، کتنی مطلوب صفتیں ہیں، فرشتے ان صفتوں سے بدرجۂ اتم متصف ہیں، فرشتے اپنی جبلت ہی میں نیک ہیں، شرکاارادہ بھی نہیں کرسکتے ،لیکن اس کے باوجود فرشتوںجیسی برگزیدہ مخلوق پر ایک ایسی مخلوق کو فضیلت حاصل ہوگئی جس کی فطرت خیر کے ساتھ شر سے بھی آشنا ہے اور حکم دیاگیا کہ اس ظلوم وجہول مخلوق کو ۔ آدم کو۔ انسان کو۔ سجدہ کرو، تو اس فضیلت واعزاز کی وجہ اس کے علاوہ اورکچھ نہیںکہ آدم کوایک ایسی خصوصیت بخشی گئی ہے جس سے فرشتے محروم ہیں ، یہ خصوصیت تمام فضیلتوں پر بھاری اورآدم کو خلافت الٰہی کا حقدار بنانے والی ہے وہ خصوصیت کیا ہے؟ علم ! وَعَلَّمَ آدَمَ الْاَسْمَائَ کُلَّھَا ثّمَّ عَرَضَھُمْ عَلٰی الْمَلٰئِکَۃِ فَقَالَ اَنْبِئُوْنِیْ بِاَسْمَائِ ھٰوُلَائِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدقِیْنَo (جامع بیان العلم) حضرت یوسفؑ کو جب بادشاہ مصر نے قید کیا اور کئی سال جیل میں رہے پھریکایک جو حالات پلٹے اور اس قدر آپ کااعزاز واکرام ہوا کہ شاہ مصر آپ کے