اسلاف کی طالب علمانہ زندگی اور اصول و آداب کی مثالی رعایت |
|
اور تامل کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل مقصود تو بچنا ہی ہے یعنی معاصی سے مگر سبب اس کا ڈرنا ہے، کیونکہ جب کسی چیز کا خوف دل میں ہوتا ہے ، جب ہی اس سے بچا جاتا ہے ،پس تقویٰ کا مفہوم ہوا تمام ظاہری باطنی گناہوں سے بچنا اور وہ جب ہی ہوسکتا ہے کہ معاصی سے بچا جائے اور مامورات کو بجالایا جائے کیونکہ ترک ماموربہ بھی معصیت ہے۔ لہٰذا طالب علم کو تمام معاصی سے پرہیز کرنا چاہئے اور مامورات کو بجا لانے کی کوشش کرنا چاہئے۔ (افاضات) بالخصوص آنکھ، کان، زبان اور دماغ ان چاروں اعضاء کے غلط استعال سے حتی الامکان بچے کہ یہ چاروں علم کے ذرائع ہیں اور انہی راستوں سے علم کا نور اندر داخل ہوتا ہے، لہٰذا ان کو پاک صاف رکھے، کہ جب یہ گندے ہوں گے تو علم کا وہ نور جو معرفت الہیہ اور تعلق مع اللہ کا ذریعہ ہوگا اندر داخل نہیں ہوسکتا اور علم صحیح طریقہ پر محفوظ نہیں رہ سکتا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کا مقولہ ہے کہ گناہ کرنے سے آدمی وہ علم بھی بھول جاتا ہے جو حاصل کرچکا تھا۔ حضرت عمرؓ نے حضرت کعب سے پوچھا کہ تقویٰ کسے کہتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ کبھی خاردار جھاڑی والے راستہ پر چلے ہو؟ حضرت عمرؓ نے فرما یا جی ہاں! دریافت کیا کیسے چلے ہو؟ فرمایا دامن سمیٹ کر کپڑوں اور بدن کو پورے طور پر بچا کر کہ کہیں کوئی کانٹا کپڑے یا بدن پر نہ لگ جائے، فرمایا یہی تقویٰ ہے حضرت عبداللہ بن مبارک کے اشعار ہیں رَئَیْتُ الذُّنُوْبَ تُمِیْتُ الْقُلُوْبَ وَیُوْرِثُکَ الذُّلَّ اِدْمَا نُھَا وَتَرْکُکَ الذُّنُوْبَ حَیَاۃُ الْقُلُوْبِ وَخَیْرُٗلِنَفْسِکَ عِصْیَانُھَا