اسلاف کی طالب علمانہ زندگی اور اصول و آداب کی مثالی رعایت |
|
بغیر علم کی دولت حاصل نہیںہوسکتی۔ عادۃ اللہ ہمیشہ سے یہی جاری ہے کہ اساتذہ کا احترام نہ کرنے والا کبھی علم سے منتفع نہیں ہوسکتا، لہٰذا استاذ کا دل سے ادب واحترام کرے، اس کی تعظیم کرے، اس کانام بھی احترام سے لے، اس کے ساتھ گفتگو میں اوردیگر تمام معاملات میں ادب سے پیش آئے۔ قرآن کریم میںحق تعالیٰ شانہٗ ارشاد فرماتے ہیں ۔ یَٰاَایُّھَاالَّذِیْنَ آمَنُوْا لَاتَقُوْلُوْرَاعِنَا وَقُوْلُوْا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا(الایۃ) اے لوگو! جوایمان لائے ہو مت کہو ’’راعنا‘‘ اور کہو انتظار کرو ہمارا اورسنو۔ اس آیت سے ثابت ہوتاہے کہ استاد کے ساتھ گفتگو میں بھی ادب ملحوظ رکھے تابمعاملات چہ رسد (اصلاح انقلاب امت) تعلیم المتعلم میںلکھا ہے کہ طالب علم علم سے منتفع ہوہی نہیں سکتا جب تک کہ علم، علماء اوراساتذہ کا احترام نہ کرے، جس شخص نے جو کچھ حاصل کیا وہ ادب واحترام کی بدولت کیا ہے اور جوگرا ہے وہ بے حرمتی سے گرا ہے ۔ آگے فرماتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ آدمی گناہ کرنے سے کافر نہیںہوتا۔ اور دین کے کسی جزوکی بے حرمتی کرنے سے کافر ہوجاتا ہے ۔ ؎ از خدا خواہیم توفیق ادب بے ادب محروم گشت ازفضل رب ہم اللہ سے ادب کی توفیق مانگتے ہیں کہ بے ادب اللہ کے فضل سے محروم رہتاہے۔ ادب تاجیست ازفضل الٰہی بنہ بر سر برو ہر جا کہ خواہی ادب فضل خداوندی کا ایک زبردست تاج ہے ، اس کو سرپر رکھ کر جہاں چاہے چلے جاؤ ۔